مینجیونی کا فرد جرم میں عائد الزاما ت سے انکار، پریپ واک کا تماشا لگایا گیا، اٹارنی

 مینجیونی کا فرد جرم میں عائد الزاما ت سے انکار، پریپ واک کا تماشا لگایا گیا، اٹارنی

ویب ڈیسک :قتل کے ملزم لیوجی مینجیونی کی وکیل نے دعویٰ کیا ہے کہ نیویارک کے میئر ایرک ایڈمز نے اپنی قانونی پریشانیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے  مینجیونی کی ’’ پریپ واک’’کرا  کےا ایک "تماشا" بنایا ہے۔

  مینجیونی کی عدالت میں پیشی کے موقع پر عدالت کے باہر درجنوں مظاہرین نے ان کے حق میں مظاہرہ کیا اور انہیں معصوم قرار دیتے ہوئے انصاف کے تقاضے پورے کرنیکا مطالبہ کیا ہے ۔

 جبکہ مینجیونی نے عدالت میں جج کے سامنے برائن تھامسن کے مبینہ ریاستی قتل اور دہشت گردی کے الزامات میں قصوروار نہ ہونے کی استدعا کی۔

 یادرہے   مینجیونی کو جب گزشتہ ہفتے نیویارک کی عدالت میں پیش کیاگیا تو انہیں نارنجی رنگ کے جمپ سوٹ اور ہتھکڑی  بیڑیاں پہنا کر ’’ پریپ واک’’ کراتے ہوئے عدالت لایا گیا تھا جبکہ  اس کے ساتھ مسلح گارڈز اور مئیر نیویارک مسٹر ایڈمز بھی موجود تھے۔

مین ہٹن کی فوجداری عدالت میں سماعت کے دوران، مسٹر منگیون کی وکیل، کیرن فریڈمین اگنیفیلو نے مئیر نیویارک مسٹر ایڈمز پر الزام لگایا کہ انہوں نے بدعنوانی کے الزامات سے توجہ ہٹانے کے لیے پریپ واک کے ذریعے مینجیونی کی پیشی کو سیاسی  طورپر استعمال کیا،  انہوں نے اس بات پر شک ظاہر کیا کہ آیا ان کے مؤکل کو منصفانہ ٹرائل ملے گا۔ 

 انہوں نے کہا کہ  میں نے اپنے کیریئر میں ایسا کبھی نہیں دیکھا۔ میئر اس پریس کانفرنس میں کیا کر رہے تھے؟ 

 یادرہے مئیر نیویارک  براؤن ایڈمز پر وفاقی بدعنوانی کی تحقیقات میں رشوت ستانی اور دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا گیا ہے، ان پر سیاسی احسانات کے عوض ترک شہریوں اور ایک سرکاری اہلکار سے غیر قانونی تحائف لینے کا الزام ہے۔ 

 نیویارک کے صدارتی جج گریگوری کیرو نے کہا کہ وہ عدالت کے باہر جو کچھ ہوا اس پر قابو پانے میں ناکام ہیں لیکن اس عزم کا اظہار کیا کہ  لیوجی مینجیونی کو منصفانہ ٹرائل ملے گا۔

 قبل ازیں لیوجی مینیجیونی  کڑی سیکیورٹی میں عدالت میں داخل ہوئے۔  انہوں نے  خاکی پتلون ،سفید قمیض کے اوپر سرخ جمپر   پہن رکھا تھا۔

مینیجونی نے 11 ریاستی الزامات میں قصوروار نہ ہونے کی استدعا کی جس میں دہشت گردی کو فروغ دینا، فرسٹ ڈگری قتل اور دوسرے  ڈگری  قتل کے دو الزامات شامل ہیں ۔

 جبکہ وفاقی استغاثہ نے 26 سالہ نوجوان کے خلاف ایک علیحدہ مقدمہ  دائر کیاہے جس میں اسے  سزائےموت کا سامنا ہے ۔

مین ہٹن ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر کے پراسیکیوٹر جوئل سائیڈ مین نے کہا ہے کہ نیویارک ریاست  کے پاس اس کیس پر "بنیادی دائرہ اختیار"  کے تحت اولیت حاصل ہے وہ وفاقی استغاثہ سے پہلے  اپنے مقدمہ کی سماعت کی کوشش کرینگے۔

  مینجیونی  کےخاندان کا کوئی فرد کمرہ عدالت میں موجود دکھائی نہیں دیا۔

اے بی سی نیوز کے مطابق،  سماعت دیکھنے کے انتظار میں قطار میں کھڑی تقریباً دو درجن خواتین نے کہا کہ وہ قتل کے ملزم کی حمایت کے لیے وہاں موجود تھیں کئی نے چہرے کے ماسک پہنے ہوئے تھے۔

فرد جرم کے مطابق، 26 سالہ نوجوان کو نیویارک میں 11 مقدمات کا سامنا ہے، جن میں فرسٹ ڈگری میں ایک قتل اور دوسرے درجے میں دو قتل کے ساتھ ساتھ دیگر ہتھیار اور جعلسازی کے الزامات بھی شامل ہیں۔ مینجیونی کے خلاف دیگر الزامات میں تیسرے درجے میں ہتھیار رکھنے کی چار ، چوتھے درجے میں ایک ہتھیار کے مجرمانہ قبضے  کا ایک، اور دوسری ڈگری میں جعلی آلے کے مجرمانہ قبضے  کا ایک الزام شامل ہے۔

عدالت نے کیس کی کی اگلی تاریخ سماعت 21 فروری مقرر کی ہے۔

دریں اثنا، عدالت کے باہر، مظاہرین نے Maginone کی حمایت میں ریلی نکالی۔  شرکا نے نے ایسے پوسٹرز  اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا "لوگ زیادہ منافع"  انہوں نے نعرے لگائے "صحت کی دیکھ بھال ایک انسانی حق ہے۔

Watch Live Public News