ویب ڈیسک: سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جس ملک کے دارالحکومت میں گولی چل جائے ، اس کا اللہ ہی حافظ ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات بند کمروں میں نہیں ہوتے۔ کیا مذاکرات ہونے جا رہے ہیں، کسی کو علم نہیں کیونکہ نہ حکومت کی نیت ٹھیک ہے اور نہ ہی اپوزیشن کی۔ جیل جانا وزیر اعظم کے عہدے کا حصہ ہے۔ جیل میں اچھی تربیت ہوتی ہے ، ہم نے بھی جیل میں کافی عرصہ گزارا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ملتان میں پریس کانفرنس کی ہے۔ اس موقع پر شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اضافی صوبوں کی ضرورت ہے۔ اضافی صوبوں پر اعتراض ہے تو انتظامی یونٹس کو چھوٹا کریں۔ لوگوں کے کام مقامی سطح پر ہونے چاہئیں۔
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ الگ صوبوں کے قیام پر کبھی عملدرآمد نہیں ہوا۔ الگ سیکرٹریٹ اس مسئلے کا حل نہیں۔ جہاں بھی مطالبہ ہے وہاں اضافی صوبے بننے چاہئیں۔ پاکستان کے ہر نظام میں اصلاحات ضروری ہیں۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سیاست میں راستہ افہام و تفہیم کے ذریعے ہی نکلتا ہے۔ کسی کے خلاف جھوٹے کیسز نہیں بنائے جانے چاہئیں۔ پی ٹی آئی اپنے بانی کی رہائی کی بات کر رہی ہے۔ میرے خلاف نیب میں 9 سال جھوٹا کیس چلتا رہا۔ یہاں سابق وزراء اعظم جھوٹے مقدمات سے محفوظ نہیں۔ ملک مشکل میں ہے ، مگر یہ لوگ بیٹھ کر ملک کی بات نہیں کرتے۔ جھوٹے بیانیے سے کچھ نہیں ہوتا۔
شاہد خاقان عباسی نے بتایا کہ ہیومن رائٹس کے حوالے سے دباؤ آ رہا ہے۔ مقدمات کے ٹرائل میں احتیاط ہونی چاہیے۔ ہم اپنی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھتے۔ ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے۔ ہم سیاسی شیئرز والے لوگ نہیں ہیں۔ میں امیر ترین آدمی نہیں ہوں ، ٹیکس ادا کرنے کا جرم کرتا ہوں۔ اقتدار کے لئے ضمیر کا سودا نہیں کریں گے۔
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ چھوڑنے پر ن لیگ سے الگ ہوا۔ میاں نواز شریف کو باہر نکل کر ملک کے مسائل حل کرنے چاہئیں۔ جس ملک کے دارالحکومت میں گولی چل جائے ، اس کا اللہ ہی حافظ ہے۔