جاپان میں شہریت اور رہائش کے قوانین میں تبدیلیاں

جاپان میں شہریت اور رہائش کے قوانین میں تبدیلیاں
کیپشن: جاپان میں شہریت اور رہائش کے قوانین میں تبدیلیاں

ویب ڈیسک: جاپان دنیا کے چند ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہے جو بہترین آب و ہوا اور روزگار کے مواقع کی وجہ سے غیر ملکیوں کے لیے کشش رکھتا ہے۔ تاہم، جاپانی شہریت حاصل کرنا مشکل ہے، مگر ناممکن نہیں۔ اس وقت جاپان میں تقریباً 20 لاکھ غیر ملکی آباد ہیں جو خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔

جاپانی شہریت کے حصول کے نئے قوانین

حالیہ دنوں میں جاپان نے غیر ملکیوں کے لیے شہریت کے حصول کی شرائط میں سختی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئے قوانین کے مطابق، شہریت کے لیے جاپان میں قیام کی مدت کو پانچ سال سے بڑھا کر دس سال کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، جاپانی زبان کی مہارت اور مالی خود کفالت کی شرط بھی لازمی ہو گی۔

وزیرِ اعظم سانے تاکائچی نے ان تبدیلیوں کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ہے، اور یہ نئے قوانین 2026 کے آغاز میں نافذ ہو سکتے ہیں۔

رہائشی قوانین میں سختی

جاپانی حکومت مستقل رہائش کے قوانین بھی مزید سخت کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ 2023 میں امیگریشن کنٹرول قانون میں ترمیم کی گئی ہے، جس کے تحت جان بوجھ کر ٹیکس نہ دینے جیسے جرائم کی بنیاد پر مستقل رہائش کی اجازت منسوخ کی جا سکتی ہے۔

اعداد و شمار
سال 2024 میں جاپان میں شہریت کے لیے 12,248 درخواستیں دائر کی گئیں، جن میں سے 70 فیصد منظور ہوئیں۔ اسی طرح، جون تک جاپان میں تقریباً 9 لاکھ 30 ہزار مستقل رہائشی غیر ملکی مقیم تھے، جو غیر ملکی آبادی کا 20 فیصد ہیں۔

Watch Live Public News