بافٹاایوارڈز میں نازیباالفاظ نشر ہونے پربی بی سی نے معافی مانگ لی

بافٹاایوارڈز میں نازیباالفاظ نشر ہونے پربی بی سی نے معافی مانگ لی
کیپشن: بافٹاایوارڈز میں نازیباالفاظ نشر ہونے پربی بی سی نے معافی مانگ لی

ویب ڈیسک: لندن میں منعقد ہونے والی برطانیہ کی معروف فلمی تقریب بافٹا ایوارڈز کے بعد ایک تنازع کھڑا ہو گیا، جس پر برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے باضابطہ معافی مانگ لی۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب تقریب کی نشریات میں ایک مہمان کی جانب سے ادا کیا گیا نسلی نوعیت کا جملہ ایڈٹ کیے بغیر نشر ہو گیا۔

تقریب کے دوران کیا ہوا؟

واقعہ اس وقت پیش آیا جب فلم سنرز کے اداکار مائیکل بی جارڈن اور ڈیلرائےلنڈو اسٹیج پر ایوارڈ پیش کر رہے تھے۔ اسی دوران ٹوریٹ سنڈروم میں مبتلا جان ڈیوڈسن نے اچانک ایک نسلی جملہ بلند آواز میں ادا کر دیا۔

طبی ماہرین کے مطابق ٹوریٹ سنڈروم ایک ایسی حالت ہے جس میں مریض کو غیر ارادی طور پر آوازیں نکالنے یا الفاظ کہنے کی کیفیت لاحق ہو سکتی ہے، جن پر اس کا اختیار نہیں ہوتا۔

بی بی سی کی وضاحت اور معذرت

بی بی سی نے تقریب کو تقریباً دو گھنٹے کی تاخیر سے نشر کیا، تاہم متنازع جملہ نشریات سے حذف نہ کیا جا سکا اور یہ مواد آن لائن پلیٹ فارم پر بھی پیر کی صبح تک موجود رہا۔

بعد ازاں ادارے کے ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بعض ناظرین نے سخت اور توہین آمیز زبان سنی ہوگی، جو ٹوریٹ سنڈروم کے باعث غیر ارادی طور پر ادا ہوئی، تاہم اسے نشر ہونے سے پہلے ایڈٹ نہ کرنا ایک غلطی تھی جس پر ادارہ معذرت خواہ ہے۔

بافٹا کا ردعمل
ادھربرٹش اکیڈمی آف فلم اینڈ ٹیلی وژن آرٹس( بافٹا) نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے سے پہنچنے والی تکلیف قابل افسوس ہے اور ادارہ اس کی مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہے۔ بافٹا نے خاص طور پر مائیکل بی جورڈن اور ڈیلروئے لنڈو سے معافی مانگی اور ان کے پیشہ ورانہ طرز عمل کو سراہا۔

تقریب کے میزبان ایلن کمنگ نے بھی دورانِ تقریب معذرت کی اور کہا کہ مذکورہ شخص کا اپنے الفاظ پر کنٹرول نہیں تھا، تاہم اگر کسی کو تکلیف پہنچی تو وہ اس پر افسوس کرتے ہیں۔

فنکار برادری کا ردعمل

اس واقعے پر کئی سیاہ فام اداکاروں اور فلمی شخصیات نے ناراضی کا اظہار کیا۔ اداکار وینڈل پیئرس نے کہا کہ فوری اور واضح معافی نہ مانگنا افسوسناک ہے اور کسی بھی وجہ سے ادا کیا گیا توہین آمیز جملہ اپنی اہمیت رکھتا ہے۔

فلم سنرز کی پروڈکشن ڈیزائنرہنابیچلرنے بھی کہا کہ صورتحال پیچیدہ ضرور تھی لیکن معذرت کا انداز زیادہ مؤثر ہونا چاہیے تھا۔

فلم اور دیگر تنازعات
فلم سنرز کی ہدایت کاری ریان کوگلرنے کی ہے۔ یہ فلم سیاہ فام ثقافت اور بلیوز موسیقی کے موضوع پر مبنی ہے اور ایوارڈ سیزن میں نمایاں کامیابی حاصل کر رہی ہے۔ فلم کو آسکر کے لیے 16 نامزدگیاں مل چکی ہیں جبکہ بافٹا میں بھی کئی اعزازات اپنے نام کیے۔

جان ڈیوڈسن کی زندگی پر مبنی فلم ’آئی سُویئر‘ بھی اسی تقریب میں کامیاب رہی۔ بافٹا کے مطابق واقعے کے بعد ڈیوڈسن ہال سے باہر چلے گئے اور باقی تقریب اسکرین پر دیکھی۔

بعد ازاں جاری بیان میں جان ڈیوڈسن نے کہا کہ ان کے انوولنٹری ٹکسز ان کے قابو میں نہیں اور یہ ان کے ذاتی عقائد کی عکاسی نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے ان کے الفاظ کو ارادی سمجھا تو وہ اس پر گہری شرمندگی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ٹوریٹس کمیونٹی کی حمایت اور آگاہی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

ٹوریٹ سنڈروم سے متعلق فلاحی تنظیم نے بھی بیان میں کہا کہ ایسے الفاظ بیماری کا حصہ ہو سکتے ہیں اور انہیں کسی فرد کے خیالات یا کردار سے منسوب نہیں کیا جانا چاہیے۔

دریں اثنا، نشریات سے ایک اور پہلو بھی سامنے آیا جب ایک ہدایت کار کے “فری فلسطین” کے الفاظ کو ایڈٹ کر دیا گیا، جس پر بعض حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی۔

Watch Live Public News