ویب ڈیسک: پاکستانی فلم سازوں نے ایک بار پھر عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کرتے ہوئے نیپال میں منعقدہ ’’کٹھمنڈو ڈاک لیب‘‘ میں اہم اعزاز اپنے نام کر لیا۔
پاراچنار سے تعلق رکھنے والے فلم ساز ماہ نور بتول اور شاہ نواز احمد خان کی مشترکہ دستاویزی فلم ’’ دی ایمرجنسی ایگزٹ‘‘ کو ’’اسپرٹ آف ڈاک لیب ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔
یہ دستاویزی فلم غیر یقینی حالات میں زندگی گزارنے والے افراد کی جدوجہد، مشکلات اور ثابت قدمی کی داستان بیان کرتی ہے، جو ناظرین کو انسانی حوصلے اور امید کا ایک منفرد پہلو دکھاتی ہے۔
’’ دی ایمرجنسی ایگزٹ‘‘ پاکستان کا واحد منصوبہ تھا جو اس بین الاقوامی فورم کے لیے منتخب ہوا اور تقریب میں دیے گئے چار ایوارڈز میں سے ایک حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔
مقابلے میں بھارت، نیپال، بھوٹان اور بنگلہ دیش کے متعدد منصوبے بھی شامل تھے، جبکہ دیگر تین ایوارڈز بھارتی فلموں کے حصے میں آئے۔
یہ کامیابی نہ صرف پاکستانی دستاویزی فلم سازی کے بڑھتے ہوئے معیار کی عکاسی کرتی ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستانی فلم سازوں کی تخلیقی صلاحیتوں کے اعتراف کا بھی مظہر ہے۔