ویب ڈیسک: ایران کے وسطی صوبے اصفہان میں ایرانی فوج کا ایک ہیلی کاپٹر فروٹ منڈی میں گر کر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں پائلٹ، کو پائلٹ اور دو تاجر جاں بحق ہو گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثہ دورچے شہر میں پیش آیا جہاں ہیلی کاپٹر گرنے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ ریسکیو اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچے اور آگ پر قابو پا لیا، تاہم حادثے میں سوار تمام افراد جانبر نہ ہو سکے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ حکام نے واقعے کی مکمل رپورٹ مرتب کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کا فضائی سیفٹی ریکارڈ ماضی میں تنقید کی زد میں رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق ایران کے بیڑے میں شامل متعدد طیارے 1979 کے اسلامی انقلاب سے قبل خریدے گئے تھے، جبکہ بین الاقوامی پابندیوں کے باعث اصل اسپیئر پارٹس کی دستیابی اور بروقت مرمت میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے، جو حادثات کی ایک ممکنہ وجہ بن سکتی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی ایرانی فضائیہ کا امریکی ساختہ ایف-4 لڑاکا طیارہ مغربی صوبے ہمدان میں تربیتی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہو گیا تھا، جس میں ایک پائلٹ ہلاک ہوا تھا۔
اس سے قبل مئی 2024 میں ایران کے اُس وقت کے صدر ابراہیم رئیسی اور دیگر اعلیٰ حکام کو لے جانے والا ہیلی کاپٹر خراب موسمی حالات کے باعث پہاڑی علاقے میں لینڈنگ کے دوران حادثے کا شکار ہو گیا تھا، جس میں تمام سوار افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔
حالیہ حادثے نے ایک بار پھر ایران میں فضائی سلامتی کے معیار پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔