ویب ڈیسک: گیس سیکٹر میں موجود 2800 ارب روپے کے گردشی قرضے پر قابو پانے کے لیے حکومت نے نئی حکمت عملی مرتب کر لی ہے، جس پر ٹاسک فورس کام کر رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بار حکمت عملی میں گیس کی قیمتوں یا لیوی میں اضافے سے اجتناب کیا گیا ہے اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ عوامی صارفین پر بوجھ ڈالنے کے بجائے سرکاری گیس کمپنیوں کے منافع کو استعمال کر کے قرضہ ختم کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق جلد اس منصوبے کا باضابطہ اعلان کر دیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے اس سے پہلے بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے بعد اب گیس سیکٹر کے مسائل کے حل پر توجہ دی جا رہی ہے، اور اسی مقصد کے لیے پاور سیکٹر کی ٹاسک فورس کو نئی ذمہ داری دی گئی ہے۔ تاہم، حکمت عملی کی تفصیلات فی الحال منظرِ عام پر نہیں لائی گئیں۔
ماضی میں اسی نوعیت کے منصوبے پر عالمی مالیاتی ادارے ( آئی ایم ایف) نے اعتراضات اٹھائے تھے، جنہیں مدنظر رکھتے ہوئے نئی حکمت عملی میں خامیاں دور کر دی گئی ہیں۔
قبل ازیں، پیٹرولیم ڈویژن نے معروف آڈٹ فرم KPMG سے گیس کے گردشی قرضے پر تجاویز طلب کی تھیں، جنہوں نے تجویز دی تھی کہ بجلی کی طرز پر یہ مالی بوجھ گیس صارفین پر منتقل کیا جائے، مگر موجودہ منصوبہ اس سے مختلف ہے۔