ویب ڈیسک: پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ اور پارٹی رہنماؤں نے تصدیق کی ہے کہ سلیمان اور قاسم جلد پاکستان آرہےہیں۔ دونوں بیٹے اپنے والد سے ملاقات کے لیے آرہے ہیں، جس کے لیے قانونی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
نجی چینل کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس ملاقات کے لیے باقاعدہ درخواست دائر کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد ملاقات کو یقینی بنانا ہے۔ وکلاء علی ظفر اور سلمان اکرم راجہ کے مطابق سکیورٹی وجوہات کے باعث قیام کی تفصیلات فی الحال ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔
علیمہ خان نے بتایا کہ دونوں بیٹوں کا اپنے والد سے ملنا ان کا آئینی حق ہے، اور وہ چاہتی ہیں کہ اس پر کوئی قانونی رکاوٹ نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اجازت نہ ملی تو یہ کہا جائے گا کہ ہمارے پاس ملاقات کی اجازت ہی نہیں تھی، اس لیے عدالت سے رجوع کر رہے ہیں۔
اس دوران پی ٹی آئی کے سینئر رہنما سلمان اکرم راجہ نے واضح کیا کہ پارٹی کی قیادت اب بھی عمران خان کے پاس ہے اور شاہ محمود قریشی کی سربراہی سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاہ محمود پر مقدمات زیرِ سماعت ہیں، اس لیے قیادت سے متعلق خبریں محض افواہیں ہیں۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ اور بیرسٹر علی ظفر نے شکایت کی کہ عدالتی احکامات کے باوجود انہیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرائل کو خفیہ رکھا جا رہا ہے، جو آئینی اور قانونی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
علیمہ خان نے ایک بار پھر توشہ خانہ کیس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اور ان کا خاندان عمران خان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے، اور کسی دباؤ سے خوفزدہ نہیں ہوگا۔