(ویب ڈیسک ) انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس (ICJ) نے 21 جون کو ایران کی جوہری تنصیبات—فردو، اصفہان اور نطنز—پر امریکا کے فوجی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس (ICJ) نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ حملے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) کی واضح خلاف ورزی ہیں، جو کسی بھی ریاست کو طاقت کے استعمال یا دھمکی دینے سے روکتا ہے۔
آئی سی جے نے یاد دہانی کروائی کہ اقوام متحدہ کا چارٹر طاقت کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کرتا ہے، سوائے دو مخصوص صورتوں کے: اگر کسی ملک پر مسلح حملہ ہو اور وہ اپنے دفاع میں جواب دے، یا اگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل واضح اجازت دے۔ چونکہ ان میں سے کوئی شرط پوری نہیں ہوئی، اس لیے امریکا کا حملہ غیر قانونی شمار ہوتا ہے۔
کمیشن نے مزید کہا کہ 1949 کے جنیوا کنونشن کے اضافی پروٹوکول (1977) کے آرٹیکل 56 کے مطابق، ایسی تنصیبات پر حملے ممنوع ہیں جن سے خطرناک اثرات پیدا ہو سکتے ہیں، جیسے جوہری بجلی گھر—اگر وہ فوجی ہدف ہوں۔ کیونکہ ایسے حملے شہری آبادی کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ماضی کی قراردادیں بھی اسی اصول کی عکاسی کرتی ہیں۔ 1981 میں، اسرائیل کے عراق پر جوہری حملے کے خلاف متفقہ طور پر قرارداد 487 منظور کی گئی تھی، جس میں حملے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا گیا تھا—حتیٰ کہ امریکا نے بھی اس کے حق میں ووٹ دیا تھا۔
حالیہ امریکی حملے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے IAEA کے ڈائریکٹر جنرل، رافیل گروسی نے کہا کہ "جوہری تنصیبات پر حملے کسی صورت نہیں ہونے چاہییں، کیونکہ ان کے نتیجے میں تابکاری خارج ہو سکتی ہے، جو نہ صرف متاثرہ ملک بلکہ آس پاس کے علاقوں کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔"
آئی سی جے (ICJ) کے سیکرٹری جنرل سانتیاگو کانٹن نے کہا: "بین الاقوامی قانون کی لازمی شقوں کو طاقت کے ذریعے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ عالمی برادری کو فوری اقدامات کر کے ان قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانا چاہیے، اور اقوام متحدہ کے کردار کو بحال کرنا ہوگا۔ مسائل کا حل طاقت سے نہیں، بلکہ سفارتکاری سے ہونا چاہیے۔"