بعض وفاقی وزراء وزیراعظم کیلئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں، بلاول بھٹو زرداری

بعض وفاقی وزراء وزیراعظم کیلئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں، بلاول بھٹو زرداری
کیپشن: بعض وفاقی وزراء وزیراعظم کیلئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں، بلاول بھٹو زرداری

ویب ڈیسک: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ چند وفاقی وزراء وزیراعظم شہباز شریف کی معاونت کے بجائے ان کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں، جبکہ بعض وزراء کا طرزِ سیاست اور طرزِ عمل سمجھ سے بالاتر ہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کر چیلنجز کا مقابلہ کرنا چاہیے، تاہم بعض وزراء کے بیانات اور رویے اتحاد و یکجہتی کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جو وفاقی وزیر یہ بیان دے کہ راولاکوٹ کے لوگ کشمیری نہیں، وہ اب تک کابینہ کا حصہ کیوں ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ دفاع بھی اپنے متنازع بیان پر معذرت کرنے کے لیے تیار نہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں نے آزاد کشمیر کے مسائل کا سیاسی اور جمہوری حل تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف ملک کو درپیش مشکلات سے نکالنے کے لیے پرعزم ہیں اور موجودہ مسائل کا حل مذاکرات، مشاورت اور سیاسی اتفاقِ رائے میں ہی مضمر ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے تجویز دی کہ مسائل کے حل کے لیے مولانا فضل الرحمان کو بھی فعال کردار دیا جانا چاہیے تاکہ وہ احتجاج کرنے والوں اور آزاد کشمیر حکومت کے درمیان مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کر سکیں۔

اپنی تقریر کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد سمیت تمام علاقوں میں بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں اور مقامی حکومتوں کا مؤثر نظام متعارف کرایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہے وہاں بلدیاتی نظام فعال ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے زیرِ انتظام علاقوں میں مقامی حکومتوں کا نظام مؤثر انداز میں موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی طرز پر مضبوط بلدیاتی نظام لاہور سمیت دیگر شہروں میں بھی نافذ کیا جانا چاہیے۔

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد 90 روز کے اندر بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی کوشش کی جائے گی۔

انہوں نے ایم کیو ایم پاکستان کے مطالبات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے جائز مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے تو انہیں وفاقی حکومت میں اپنی شمولیت پر غور کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض آئینی ترامیم کراچی کے عوامی نمائندوں کے لیے محض تسلی کے اقدامات ثابت ہو رہی ہیں۔

تقریر کے اختتام پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ وقت سیاسی اختلافات کو ہوا دینے کا نہیں بلکہ قومی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں کا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف ملک کو درپیش چیلنجز سے نکالنے میں کامیاب ہوں گے۔

Watch Live Public News