ویب ڈیسک: پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے 2018 کے عام انتخابات کی تحقیقات کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ 2024 کے انتخابات سمیت گزشتہ انتخابی عمل کا بھی جامع اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے۔
وزیراعظم کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے ترجمان نے کہا کہ پارٹی 2018 کے انتخابات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اس حوالے سے کسی بھی غیر جانبدارانہ عمل کا خیرمقدم کرے گی۔
ترجمان نے کہا کہ تحقیقات کا دائرہ صرف 2018 کے انتخابات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ 2014، 2018 اور 2024 کے انتخابی عمل کا بھی جامع جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ تمام شکوک و شبہات کا خاتمہ ہو اور حقائق قوم کے سامنے آ سکیں۔
پی ٹی آئی کے مطابق بانی چیئرمین عمران خان نے 2014 میں صرف چار حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا تھا اور ان حلقوں کی جانچ پڑتال کے دوران مختلف بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی تھی، تاہم اُس وقت کی حکومت نے تحقیقات کو مزید وسعت نہیں دی۔
ترجمان نے دعویٰ کیا کہ 2018 کے انتخابات کے بعد عمران خان نے ہر حلقے کی جانچ کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی اور اپوزیشن کی جانب سے جس حلقے کی نشاندہی کی جاتی، حکومت اس کی تحقیقات کے لیے تیار تھی۔
پی ٹی آئی نے 2024 کے انتخابات کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انتخابی شفافیت، سیاسی ماحول اور انتخابی عمل سے متعلق متعدد سوالات سامنے آئے، جن کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
پارٹی نے مطالبہ کیا کہ تمام انتخابات کا جائزہ لینے کے لیے ایک آزاد، خودمختار اور بااختیار تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا جائے جو حقائق کا تعین کر کے اپنی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کرے۔
ترجمان کے مطابق شفاف تحقیقات نہ صرف انتخابی نظام پر عوامی اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی بلکہ مستقبل میں جمہوری عمل کو مزید مضبوط بنانے کا بھی باعث بنیں گی۔