ویب ڈیسک: یوکرین کے وزیر دفاع رستم عمروف نے کہا ہے کہ’ ریاض میں اتوار کو یوکرین اور امریکی حکام کے درمیان بات چیت کا تازہ ترین دور ’نتیجہ خیز اور فوکسڈ‘ رہا ہے۔‘
عرب نیوز کے مطابق ان کا کہنا تھا’ ہم نے امریکی ٹیم کے ساتھ بات چیت مکمل کرلی ہے۔‘
سوشل میڈیا پر بیان میں کہا’ بات چیت’ نتیجہ خیز اور فوکسڈ‘ تھی۔ ہم نے توانائی سمیت اہم نکات پر بات کی۔ یوکرین ’منصفانہ اور پائیدار امن‘ کے اپنے مقصد کو ’حقیقت‘ بنانے کےلیے کام کر رہا ہے۔‘
انہو ں نے کہا ’اتوار کو ہونے والی بات چیت میں توانائی کی تنصیبات اور اہم انفراسٹرکچر کے تحفظ کی تجاویز پر بات کی گئی جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تین سالہ جنگ کے خاتمے کےلیے سفارتی کوششوں کا حصہ ہے۔
سعودی عرب میں ہونے والی ملاقات، جو پیر کو امریکی اور روسی وفود کے درمیان باضابطہ بات چیت سے پہلے ہوئی، ایک ایسے وقت میں ہوئی جب امریکا کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف نے دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کے مہلک ترین تنازعے کے خاتمے کے امکانات کے بارے میں امید کا اظہار کیا۔
انہوں نے اتوار کو فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ وہ (روسی صدر ولادیمیر پوٹن) امن چاہتے ہیں۔‘
’میرا خیال ہے کہ آپ پیر کو سعودی عرب میں کچھ حقیقی پیش رفت دیکھنے جا رہے ہیں، خاص طور پر اس سے دونوں ممالک کے درمیان بحری جہازوں پر بحیرہ اسود کی جنگ بندی پر اثر پڑتا ہے۔ اور اس سے، آپ قدرتی طور پر مکمل جنگ بندی کی طرف متوجہ ہوں گے۔‘
دوسری جانب امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز نے اتوار کو کہا کہ امریکا اعتماد سازی کے متعدد اقدامات کے ذریعے بات کر رہا ہے جس کا مقصد جنگ کو ختم کرنا ہے۔
قبل ازیں ریاض مذاکرات کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے، یوکرین کے وزیر دفاع رستم عمروف نے، جو اپنے ملک کے وفد کی سربراہی کر رہے ہیں، فیس بک پر کہا تھا کہ ’ہم منصفانہ امن کو قریب لانے اور سکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے یوکرین کے صدر کی ہدایت پر عمل کر رہے ہیں۔‘
پوٹن نے گذشتہ ہفتے صدر ٹرمپ کی روس اور یوکرین کے ایک دوسرے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر 30 دنوں کے لیے حملے روکنے کی تجویز سے اتفاق کیا تھا، لیکن اس مختصر سی طے شدہ جنگ بندی پر جلد ہی اس وقت شکوک و شبہات کے بادل چھا گئے جب دونوں فریقوں نے مسلسل حملوں کی اطلاع دی۔
امریکی صدر نے سنیچر کو کہا تھا کہ یوکرین روس جنگ میں مزید کشیدگی کو روکنے کی کوششیں ’کسی حد تک قابو میں ہیں۔‘ جبکہ بلومبرگ نیوز نے اتوار کو ان مذاکرات سے واقف لوگوں کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ امریکا 20 اپریل تک جنگ بندی کے معاہدے کو ہدف بناتے ہوئے ہفتوں کے اندر وسیع جنگ بندی تک پہنچنے کی امید رکھتا ہے