ویب ڈیسک: گوادر میں خصوصی افراد کو باوقار روزگار کی فراہمی کے لیے ایک تاریخی اور انقلابی قدم اٹھایا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور مارکیٹ کمیٹی کے اشتراک سے شروع کی جانے والی یہ اسکیم نہ صرف روزگار بلکہ خود انحصاری، وقار اور سماجی شمولیت کی بھی ایک شاندار مثال ہے۔
30 خصوصی ریڑھیاں، باوقار کاروبار کا آغاز
اس اسکیم کے تحت 30 خصوصی طور پر تیار کردہ ریڑھیاں گوادر اور پسنی کے علاقوں میں فراہم کی گئی ہیں، جو ضروری اشیائے خوردونوش سے لیس ہیں۔ ان ریڑھیوں کو خصوصی افراد کی جسمانی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ آسانی سے اپنا کاروبار چلا سکیں۔
پانی کی ترسیل کے لیے لوڈر رکشوں کا انتظام
30 سیلز پرسنز، ایک ہیلپر اور ڈرائیور کے ساتھ، دفاتر اور مارکیٹوں میں پانی کی ترسیل کے لیے لوڈر رکشوں کے ذریعے اپنا کام شروع کریں گے۔
ضلعی انتظامیہ کی براہ راست سرمایہ کاری
اس تمام منصوبے کی مالی معاونت ضلعی انتظامیہ نے خود فراہم کی ہے، جو کہ پسماندہ طبقوں کی خود انحصاری کے لیے ایک عملی اقدام ہے۔ تمام سرکاری محکموں اور مارکیٹ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان خصوصی افراد سے خریداری کریں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں۔
خواتین کی شمولیت، بااختیار بنانے کی جانب ایک اور قدم
اس منصوبے کے تحت 60 مزید افراد نے بھی مختلف کاروباروں کا آغاز کیا ہے جن میں 22 خواتین بھی شامل ہیں۔ یہ خواتین اب ٹک شاپس، فیول پوائنٹس، سلائی اور استری مراکز جیسے باوقار کاروبار چلا رہی ہیں۔ ان کاروباروں کی رہنمائی اور معاونت کے لیے ایک نگران کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔خواتین کی شرکت کو خاص طور پر فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ وہ بھی خود مختار بن سکیں۔
معاشی شمولیت اور امید کی نئی مثال
یہ اسکیم صرف روزگار نہیں بلکہ خود انحصاری، وقار اور شمولیت کا عہد ہے،مدد کے بجائے مواقع فراہم کرنا ہی اس اسکیم کا اصل مقصد ہے،ضلعی تعاون اور کمیونٹی کی شراکت سے یہ افراد اب معیشت میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔
گوادر کی کہانی اب امید، ترقی اور شمولیت کی علامت بنتی جا رہی ہے،ہم پُرامید ہیں کہ آئندہ مہینوں میں یہ منصوبہ مزید افراد تک پھیلایا جائے گا،آپ کی رہنمائی اور تعاون کے ساتھ، ہمیں یقین ہے کہ خود کفیل اسکیم بلوچستان بھر میں ترقی کا ماڈل بن کر ابھرے گی۔