ویب ڈیسک:وزارت موسمیاتی تبدیلی کی سیکریٹری عائشہ موریانی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پہلی بار اگلے سال دن کے اوقات میں بعض بڑے صنعتی علاقوں میں چھتوں پر نصب سولر سسٹمز کی بجلی قومی گرڈ کی طلب سے زیادہ ہو جائے گی۔
عائشہ موریانی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گزشتہ برسوں کے دوران سولر پینلز کی تنصیبات میں بے مثال اضافہ ہوا ہے جس سے اخراجات اور بجلی کے بل کم ہوئے لیکن ساتھ ہی گرڈ پر مبنی بجلی کی طلب میں کمی کے باعث خسارے میں ڈوبی پاور کمپنیوں کے مالی معاملات مزید خراب ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کچھ اوقات میں گرڈ سے منسلک بجلی کی طلب منفی ہو جائے گی کیونکہ گھروں اور صنعتوں میں نصب سولر سسٹمز کی پیداوار مکمل طور پر گرڈ کی کھپت کو بدل دے گی۔
عائشہ موریانی کے مطابق لاہور میں سب سے پہلے منفی طلب دیکھنے کا امکان ہے جہاں سولر پینٹریشن سب سے زیادہ ہے،اس کے بعد فیصل آباد اور سیالکوٹ میں بھی یہی رجحان دیکھا جائے گا جہاں صنعتی علاقوں میں سولر کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
بجلی کی لوڈشیڈنگ اور ٹیرف میں اضافے نے 25 کروڑ آبادی والے ملک میں سولر اپنانے کے رجحان کو تیز کیا ہے جس کے باعث پاکستان دنیا کا تیسرا بڑا سولر پینل درآمد کنندہ بن گیا ہے اور اس کی سولر پیداواری شرح ہمسایہ چین سے بھی زیادہ رفتار سے بڑھ رہی ہے۔
پاکستان بڑے سولر صارفین کے لیے نئے ٹیرف لانے اور فیس ڈھانچے میں تبدیلیاں کرنے کا منصوبہ بھی بنا رہا ہے، تاکہ سولر استعمال کرنے والے صنعتی یونٹس بھی گرڈ کے اخراجات میں حصہ ڈالیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس سال گرڈ سے منسلک بجلی کی طلب میں 3 سے 4 فیصد اضافہ متوقع ہے جو ماضی کی نسبت کم ہے جبکہ اگلے سال طلب میں اضافہ تو ہوگا لیکن سولر کے بڑھتے استعمال کے باعث اس پر اثر پڑ سکتا ہے۔