ویب ڈیسک: پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کی کارکن فلک جاوید خان کو گزشتہ رات سیکٹر ایف-10 سے گرفتار کر لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق فلک جاوید پر اشتعال انگیز مہم چلانے اور ریاستی اداروں کے خلاف تضحیک آمیز مواد پھیلانے کا الزام ہے، جس پر ان کے خلاف الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ فلک جاوید گزشتہ 16 ماہ سے روپوش تھیں۔
پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر فلک جاوید کی گرفتاری کی سخت مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فلک جاوید خان کو گرفتار کر لیا گیا، اس غیر قانونی گرفتاری کی بھرپور مزمت کرتے ہیں، فارم 47 کی عسکری حکومت کو ابھی تک سمجھ نہیں آئی کہ ڈنڈے کے زور پر سوچ نہیں بدلی جا سکتی،#PakistanUnderFascism pic.twitter.com/xtVc2dTSbD
— PTI (@PTIofficial) September 23, 2025
فلک جاوید کی رہائی کے لیے ان کے والد جاوید اقبال نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ فلک جاوید کو عدالت میں پیش کرنے اور ان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔
فلک جاوید کی بازیابی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع pic.twitter.com/OCppOmp4j4
— Zubair Ali Khan (@ZubairAlikhanUN) September 24, 2025
واضح رہے کہ گزشتہ سال پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بھی فلک جاوید کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ اس درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ فلک جاوید نے ان کی سوشل میڈیا پر نازیبا ویڈیوز اپ لوڈ کیں اور وہ ماضی میں بھی ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہی ہیں۔ عظمیٰ بخاری نے عدالت سے فلک جاوید کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں شامل کرنے اور ایف آئی اے کو فوری تحقیقات کی ہدایت دینے کی استدعا کی تھی۔