کسی حکمران کا تحفے قبول کرنا ناجائز نہیں ہے: مولانا طارق جمیل

کسی حکمران کا تحفے قبول کرنا ناجائز نہیں ہے: مولانا طارق جمیل
لاہور: (ویب ڈیسک) معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے کہا ہے کہ پاکستانی قوانین کا تو مجھے علم نہیں البتہ شریعت کے اعتبار سے کسی حکمران کا تحفے قبول کرنا ناجائز نہیں ہے۔ نجی ٹیلی وژن کو انٹرویو میں مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ ہر انسان میں اچھائی اور برائی ہوتی ہے۔ کچھ میں زیادہ خامیاں ہوتی ہیں تو کسی میں خوبیاں۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ عمران خان ہی وہ واحد لیڈر ہے جس نے بین الاقوامی فورم پر جا کر اسلام کے حق میں آواز اٹھائی۔ اسلامی ممالک میں کسی اور کے پاس زبان نہیں کہ اس حوالے سے بات کرتا۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسلاموفوبیا اور توہین رسالت جیسے اہم موضوعات پر آواز اٹھانا بلاشبہ عمران خان کا کارنامہ ہے لیکن پاکستان میں ان کو اس کا کریڈٹ نہیں دیا گیا جس کے وہ مستحق ہیں۔ لیکن اگر ہم ایسا نہیں کر سکے تو اللہ تعالیٰ کی ذات انہیں اپنے خزانوں سے جو چاہے گی عطا کرے گی۔ مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ ملکی خزانے کی حفاظت کرنے کی پوری ذمہ داری ریاست اور حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔ اگر کوئی حکمران قومی خزانے کی لوٹ مار میں ملوث ہو تو اس کا انجام بہت ہی بھیانکہوتا ہے۔ حکمرانوں کے تحئاف قبول کرنے کے حوالے سے انہوں نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضرت محمد ﷺ کو مصری حکمران نے ایک خچر کا تحفہ دیا تھا، اس خچر کا نام’’دلدل‘‘ تھا۔ جسے نبی کریم ﷺ نے اپنے زیر استعمال رکھا جبکہ بعد میں حضرت علیؓ نے اس پر سواری کرکے جنگ میں حصہ لیا تھا۔

Watch Live Public News

ایڈیٹر

احمد علی کیف نے یونیورسٹی آف لاہور سے ایم فل کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ پبلک نیوز کا حصہ بننے سے قبل 24 نیوز اور سٹی 42 کا بطور ویب کانٹینٹ ٹیم لیڈ حصہ رہ چکے ہیں۔