ویب ڈیسک: بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے معروف سیاحتی مقام پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے میں سکیورٹی اور انٹیلی جنس کی سنگین خامیوں کا اعتراف کرلیا ہے۔
بدھ کے روز بھارتی وزیردفاع راج ناتھ سنگھ کی زیرصدارت آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں پہلگام سانحے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے اجلاس میں سکیورٹی کی ناکامی کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ خفیہ اداروں کی کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے۔
اجلاس کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ کانگریس اور دیگر جماعتوں نے مطالبہ کیا کہ اس المناک واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
آل انڈیا اتحاد المسلمین کے رہنما اسدالدین اویسی نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے سوال اٹھایا کہ اگر بھارت دریاؤں کا رخ موڑتا ہے تو وہ اس پانی کو ذخیرہ کہاں کرے گا؟ جواب میں حکومتی نمائندے نے کہا کہ اس کے لیے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
کانگریس کا ردعمل: مودی حکومت پلگام واقعے کی ذمہ دار قرار:
کانگریس پارٹی نے پہلگام حملے کو سکیورٹی اور انٹیلی جنس کی مکمل ناکامی قرار دیا ہے۔ پارٹی رہنما راہول گاندھی نے سوال اٹھایا کہ اتنے حساس علاقے میں سکیورٹی کیوں غیر مؤثر تھی؟ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سلامتی کے معاملات پر سیاست سے بالاتر ہو کر اقدامات کی ضرورت ہے۔
پہلگام فائرنگ: غیر ملکی سیاح بھی نشانہ بنے
منگل کے روز پہلگام میں ہونے والی فائرنگ میں کم از کم 26 سیاح ہلاک جبکہ 12 زخمی ہو گئے۔ بھارتی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دو غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں جن کا تعلق اٹلی اور اسرائیل سے بتایا گیا ہے۔ اس حملے میں بھارتی بحریہ کا ایک افسر بھی مارا گیا۔
حملے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ سکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔