عمران خان نے چیف جسٹس پاکستان کو اہم ترین خط لکھ دیا

عمران خان نے چیف جسٹس پاکستان کو اہم ترین خط لکھ دیا
کیپشن: عمران خان نے چیف جسٹس پاکستان کو اہم ترین خط لکھ دیا

ویب ڈیسک: سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ہدایت پر چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک اور خط ارسال کیا گیا ہے، جس میں ملک میں آئین و قانون کی مبینہ خلاف ورزیوں پر فوری توجہ دینے کی اپیل کی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان سپریم کورٹ پہنچ گئیں اور خط چیف جسٹس کے لیے حوالے کردیا، علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان نے جو خط لکھنے کا کہا تھا وہ خط پہنچانے آئی ہوں۔

عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ بھی سپریم کورٹ پہنچے اور کہا کہ عمران خان سے ملاقاتوں سے متعلق خط چیمبر میں خط دیں گے چیف جسٹس پڑھ لیں گے، یہ کھلا خط ہے جو عوام تک بھی پہنچ جائے گا۔

اطلاعات ہیں کہ چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اور قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو عمران خان کی جانب سے لکھا گیا خط ارسال کردیا گیا۔

خط بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر لکھا گیا ہے جس کا متن 10 صفحات پر مشتمل ہے، خط میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف مقدمات کا حوالہ دیا گیا ہے۔

دریں اثنا چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، علیمہ خان اور دیگر کی قائم مقام چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر سے ملاقات ہوئی جس کی ذرائع نے تصدیق کی ہے۔ ذرائع کے مطابق قائم مقام چیف جسٹس کے چیمبر میں ملاقات 30 منٹ تک جاری رہی۔

عمران خان کی جانب سے لکھےگئےخط کا متن

خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ عمران خان اس وقت ملک بھر میں 200 سے زائد مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں بیشتر کو غیر سنجیدہ اور سیاسی انتقام پر مبنی قرار دیا گیا ہے۔ خط میں بتایا گیا ہے کہ 2022 سے اب تک صرف 5 مقدمات میں ٹرائل مکمل ہوا ہے۔

ان مقدمات میں 2  توشہ خانہ سے متعلق کیسز شامل ہیں، جن میں خریداری کے الزامات پر کارروائی کی گئی۔ ایک کیس 2018 میں نکاح سے قبل عدت سے متعلق ہے، جس میں دی گئی سزا پر اپیل کا فیصلہ آ چکا ہے اور اسے مؤخر کر دیا گیا ہے۔

اسی طرح ایک مقدمہ سابق وزیر اعظم کے طور پر حاصل کیے گئے خفیہ سفارتی سائفر سے متعلق ہے، جس میں دی گئی سزا کو بھی اپیل میں چیلنج کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ القادر ٹرسٹ کیس میں سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی ہے اور سزا کی معطلی کی درخواست بھی زیر التوا ہے۔

خط میں زور دیا گیا ہے کہ ان تمام کیسز میں عمران خان نے کسی قسم کا ذاتی فائدہ نہیں اٹھایا اور ان کے خلاف کارروائیوں کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا گیا ہے۔

خط کے ذریعے چیف جسٹس سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان تمام معاملات میں آئین و قانون کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے عدالتی کردار ادا کریں اور انصاف کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کا نوٹس لیں۔

بیرسٹر گوہر  کی میڈیا ٹاک

بعدازاں اسلام آباد ہائیکورٹ میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے اپنی تمام گزارشات چیف جسٹس کے سامنے رکھی ہیں، علیمہ خان نے تفصیل سے فیملی ملاقاتوں سے متعلق بتایا ہے، انہیں بتایا ہے کہ کتنے عرصے سے ملاقات نہیں ہورہی، عمران خان سے ملاقات کرانے کے لیے چیف جسٹس کو استدعا کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس سے ملاقات کے بعد ایک امید پیدا ہوگئی ہے، ہمیں امید ہے منگل کو بانی پی ٹی آئی سے فیملی اور وکلاء کی ملاقات ہو جائے گی۔

واضح رہے کہ عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر دائر کی گئی توہین عدالت کی درخواست کون سنے گا، اس حوالے سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔

پی ٹی آئی رہنما اور اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان، بیرسٹر گوہر اور دیگر اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے، جہاں سابق وزیراعظم اور پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل میں ملاقات سے متعلق توہین عدالت کی درخواست کون سنے گا؟ اس سلسلے میں تاحال فیصلہ نہیں ہوسکا۔ جسٹس انعام امین منہاس نے گزشتہ روز فائل واپس بھیج دی تھی جس کے بعد فائل رجسٹرار آفس کی مختلف برانچز میں گھوم رہی ہے۔

پی ٹی آئی قیادت جیل ملاقات کا کیس مقرر کروانے کے لیے عدالت میں موجود ہے۔

Watch Live Public News