(ویب ڈیسک ) پہلگام فالس فلیگ کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے شترو گھن سنہا نے گودی میڈیا کو آئینہ دکھا دیا، حملے میں مرنے والوں لوگوں سے متعلق کہا کہ انہیں ہندو، ہندو کیوں کہہ رہے ہو ، وہاں موجود ہندو اور مسلمان سب بھارتی ہیں ۔اس بیان پر انہیں سوشل میڈیا پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بالی ووڈ کے معروف اداکار اور سیاست دان شتروگھن سنہا حالیہ دنوں ایک بیان کے باعث سوشل میڈیا پر بحث کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ پہلگام حملے کے بعد میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر سخت اعتراض کیا کہ واقعے میں جاں بحق ہونے والے افراد کو بار بار " ہندو، ہندو" کہہ کر پکارا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں مرنے والے صرف ہندو نہیں بلکہ بھارتی شہری تھے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔
Why are you saying Hindu Hindu Hindu..
— We Dravidians (@WeDravidians) April 23, 2025
Both Hindu & Muslims are Indians there..!
Shameful! The media has become a PR wing, not the fourth pillar of democracy." — Sinha#ShatrughanSinha #GodiMedia #MediaAccountability #TruthMatters #SpeakUp
️????️ pic.twitter.com/GAa5np2eV7
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے سانحات پر سیاست یا پروپیگنڈا کے بجائے ہمیں انسانیت اور اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ایسے حالات میں اشتعال انگیز بیانات دینے کے بجائے مرہم رکھنے کی ضرورت ہے۔
تاہم، ان کے اس موقف پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔
ایک خاتون صارف نے کہا کہ جس کی بیٹی مسلمان لڑکے سے شادی کرے گی اس کو ہندوؤں سے مسئلہ تو ضرور ہو گا۔

ایک صارف نے لکھا کہ پوری سنہا فیملی کا ان کےداماد نے برین واش کر دیا ہے۔

ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ ان کو کلمہ آتا ہو گا اب تو ان کا مسلمانوں میں آنا جانا ہے۔

ریحام خان نے بھی ان کے بیان کو سراہا اور کہا کہ ایک فلمی اداکار کے سفارتی ہنر اکثر پیشہ ور سیاستدانوں سے کہیں بہتر ہوتے ہیں۔ شاید سیاستدانوں اور وزیروں کو دونوں طرف کی سرحدوں پر ان سے کچھ سیکھنا چاہیے۔ شترو گھن سنہا کو سلام
