بھارتی حکومت کی اردو زبان کو مقبوضہ کشمیر سے مٹانے کی سازش بے نقاب

بھارتی حکومت کی اردو زبان کو مقبوضہ کشمیر سے مٹانے کی سازش بے نقاب
کیپشن: بھارتی حکومت کی اردو زبان کو مقبوضہ کشمیر سے مٹانے کی سازش بے نقاب

ویب ڈیسک: بھارتی حکومت کی اردو زبان کو مقبوضہ کشمیر سے مٹانے کی سازش بے نقاب ہوگئی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق جموں کشمیر انتظامیہ نے ریونیو بھرتی قواعد سے اردو لازمی شرط ختم کردی۔ اردو صدیوں سے کشمیر کی انتظامی اور سرکاری زبان کے طور پر رہی ہے۔ یہ اقدام اردوشناخت مٹانے کی بڑی سازش ہے۔ 1889 میں مہاراجہ پرتاب سنگھ نے اردو کو عدالتی زبان بنایا۔ 1947 کے بعد اسمبلی نے اردو کو رابطہ اور سرکاری زبان برقرار رکھا۔ 2019 میں آرٹیکل 370 منسوخی کے بعد اردو زبان پر حملے تیز ہوئے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق 2020 بل سے ہندی، ڈوگری، انگریزی  کو اردو پر مسلط کیا گیا۔ کشمیریوں کو اپنی منتخب کردہ زبان چھوڑنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ کشمیریوں کو اجنبی زبانوں اپنانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ بھارت ہندی، انگریزی مسلط کرکے کشمیری ثقافت  کو مٹانا چاہتا ہے۔اردو کشمیری ثقافت، شاعری اور روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ ہے۔

 سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ کشمیریوں کو زبان کے تحفظ کیلئے آواز اٹھانا ناگزیر ہے۔اردو کو سرکاری زبان سے ہٹانے کا مقصد کشمیریوں کو مذہبی اور لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنا ہے ۔

Watch Live Public News