ٹیرف پالیسی کے ذریعے پاک بھارت نیوکلیئر جنگ رکوائی،ڈونلڈٹرمپ

ٹیرف پالیسی کے ذریعے پاک بھارت نیوکلیئر جنگ رکوائی،ڈونلڈٹرمپ
کیپشن: ٹیرف پالیسی کے ذریعے پاک بھارت نیوکلیئر جنگ رکوائی،ڈونلڈٹرمپ

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ٹیرف پالیسی کے ذریعے پاک بھارت نیوکلیئر جنگ سمیت کئی جنگیں رکوائیں اور ٹیرف کے نفاذ کے باوجود مختلف ممالک امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں۔

اپنے دوسرے صدارتی دور کے پہلے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں صدر ٹرمپ نے ٹیرف کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر سخت تنقید کی۔ خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ اس وقت امریکی تاریخ میں سرحدی صورتحال سب سے زیادہ محفوظ ہے اور گزشتہ 9 ماہ میں کوئی بھی غیر قانونی تارکِ وطن امریکا میں داخل نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی مہاجرین کو ملک سے نکالا جا رہا ہے اور حکومت نہیں چاہتی کہ غیر قانونی امیگرینٹس امریکا میں قیام کریں۔

معیشت اور مہنگائی کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کے دوسرے دورِ صدارت میں افراطِ زر میں نمایاں کمی آئی، انڈوں کی قیمتوں میں 60 فیصد کمی ہوئی اور گزشتہ 12 ماہ کے دوران 18 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے حاصل کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا آج پہلے سے زیادہ خوشحال اور مضبوط ہے اور صرف ایک سال میں بڑی تبدیلیاں ممکن بنائی گئی ہیں۔ ان کے بقول، امریکا غیر معمولی کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے سابق صدر جو بائیڈن کے دور کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک تباہی کے قریب تھا جبکہ اب امریکا دنیا کا سب سے پسندیدہ ملک بن چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال انہوں نے کانگریس سے ٹیکس میں کمی کا مطالبہ کیا جسے ریپبلکنز نے منظور کروایا، جبکہ تمام ڈیموکریٹس نے اس کی مخالفت کی کیونکہ وہ ٹیکس بڑھانا چاہتے تھے۔

اسٹیٹ آف یونین خطاب میں بھی پاک بھارت جنگ رکوانے کا کریڈٹ:

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسٹیٹ آف یونین خطاب میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کا تذکرہ نہ بھولے اور ایک بار پھر پاک بھارت جنگ رکوانے کا کریڈٹ لے لیا۔

دوسرے دور صدارت میں پہلے اسٹیٹ آف یونین خطاب میں امریکی صدر نے امیگریشن، امریکی معیشت اور ڈرگ کارٹیلز سے متعلق ذکر کیا وہیں دنیا میں جاری کئی جنگیں رکوانے کا کریڈٹ بھی لیا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا میں نے 8 جنگیں ختم کیں، کمبوڈیا تھائی لینڈجنگ رکوائی، میں نے اسرائیل اور ایران کے علاوہ کانگو اور روانڈا کی جنگ رکوائی، پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بھی رکوائی، دونوں ممالک کے درمیان جوہری جنگ چھڑ سکتی تھی۔ 
ان کا کہنا تھا وزیراعظم پاکستان نے میرے لیے کہا کہ میں نے 35 ملین لوگوں کی جان بچائی، وزیراعظم پاکستان نے کہا ٹرمپ مداخلت نہ کرتے تو لاکھوں لوگ ہلاک ہوتے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا اسٹیٹ آف یونین خطاب میں کہنا تھا میں نے غزہ کی جنگ رکوائی، جنگ بندی معاہدے کے تحت غزہ سے ہرزندہ یرغمالی کو واپس لائے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا تمام 28 یرغمالی مردہ افراد کی لاشیں برآمد کرائیں، حماس اور اسرائیل نے یرغمالیوں کی لاشیں مل کر نکالیں۔ انہوں نے کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ 

ہم سننا چاہتے ہیں کہ ایران نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنائے گا: ٹرمپ
صدر ٹرمپ نے کہا ہےکہ ایران کے میزائل یورپی ملکوں اور خطے میں امریکی اڈوں کے لیے خطرہ ہیں، ایران ایسے میزائل بنا رہا ہے جو جلد ہی امریکا تک پہنچیں گے۔

ان کا کہنا تھا امریکا نے جوہری تنصیبات تباہ کرنے کے بعد ایران کو خبردار کیا تھا کہ دوبارہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں، ہم سننا چاہتے ہیں کہ ایران نیوکلیئرہتھیارنہیں بنائےگا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا ہم امن بزور طاقت پر یقین رکھتے ہیں، ترجیح ہے کہ ایران کا مسئلہ سفارتکاری سےحل ہو، ڈیل کی کوشش کر رہے ہیں۔

تقریر کے دوران رکنِ کانگریس آل گرین، الہان عمر نے احتجاج کیا اور بینر لہرانے کی کوشش کی جس پر انہیں کانگریس کی عمارت سے باہر نکال دیا گیا۔

صدر ٹرمپ کے خطاب کے موقع پر کابینہ اراکین، کانگریس کے ارکان اور ان کے اہل خانہ بھی موجود تھے۔

Watch Live Public News