ویب ڈیسک: روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ وہ اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ یوکرین میں جنگ اور توانائی کی قیمتوں سمیت دیگر معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
پوتن نے ٹرمپ کے ساتھ اپنے معاہدے پر زور دیا کہ یوکرین کی جنگ سے بچا جا سکتا تھا اگر ٹرمپ کی 2020 کے الیکشن میں جیت سے انکار نہ کیا جاتا۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے تعلقات کو اعتماد اور عملیت پر مبنی قرار دیا۔
پوتن نے ماسکو سٹیٹ یونیورسٹی کے دورے کے اختتام پر کہا کہ ہم نے موجودہ صدر (امریکی صدر) کے ساتھ مل کر کام کرنے کی تیاری کے بارے میں بیانات دیکھے ہیں، ہم اس کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔
روسی صدر نے ایک مقامی ٹی وی کے رپورٹر کو بتایا کہ یوکرین کے ساتھ مذاکرات کا معاملہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے حکم نامے پر دستخط کرنے سے پیچیدہ ہو گیا ہے جس نے انہیں پوتن کے ساتھ بات چیت سے روک دیا ہے۔
کریملن نے اس سے قبل جمعے کو کہا تھا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں اور وہ واشنگٹن سے سگنل کا انتظار کر رہے ہیں۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ پیوٹن تیار ہیں۔ ہم امریکا کی طرف سے سگنل کا انتظار کر رہے ہیں۔
انہوں نے ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کردیا کہ یوکرین میں تنازع روسی تیل کی قیمتوں کو کم کر کے ختم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا یہ تنازع تیل کی قیمتوں پر منحصر نہیں ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے چند دن بعد کریملن نے امریکا سے جوہری تخفیف اسلحہ پر مذاکرات جلد سے جلد شروع کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔