ویب ڈیسک: ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کا رجحان برقرار ہے، جس کے اثرات پاکستان میں بھی نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنااللہ نے عندیہ دیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی متوقع ہے۔
نجی ٹی وی کے مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ وزیراعظم نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے، جو صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کے اثرات جلد عوام تک منتقل کیے جائیں گے اور پٹرولیم مصنوعات مزید سستی ہونے کا امکان ہے۔
رانا ثنااللہ کے مطابق ایران-اسرائیل تنازع کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، جس کے پیش نظر حکومت نے بحرانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہر جمعے کو قیمتوں کا جائزہ لینے اور ضروری فیصلے کرنے کا طریقہ کار اپنایا۔
انہوں نے بتایا کہ ملک میں تیل کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے آئل کمپنیوں کو نسبتاً زیادہ قیمت پر ذخائر خریدنا پڑے، جس پر بعض حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا کہ کمپنیوں نے غیر معمولی منافع کمایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کاروباری نظام میں کبھی فائدہ اور کبھی نقصان دونوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر کسی مرحلے پر کمپنیوں کو فائدہ ہوا ہے تو موجودہ صورتحال میں انہیں کچھ مالی بوجھ بھی برداشت کرنا ہوگا۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے مزید کہا کہ پٹرولیم سیکٹر ایک منظم نظام کے تحت چلتا ہے اور اس میں غیر ضروری مداخلت سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ حکومت اس بات کا جائزہ لے گی کہ کمپنیوں کو کتنا فائدہ ہوا اور موجودہ حالات میں ان پر کتنا بوجھ پڑ رہا ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو حکومت کمپنیوں کے جائز مفادات کا بھی تحفظ کرے گی۔
تاہم رانا ثنااللہ نے واضح کیا کہ اگر کسی نے مصنوعی بحران پیدا کرنے یا پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو حکومت ایسے عناصر اور کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔