ویب ڈیسک: واشنگٹن میں قائم سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ (CSOH) کی 15 جون 2026 کی رپورٹ نے بھارت کی ہندوتوا نفرت انگیز موسیقی صنعت، اس کی رسائی، منافع اور اقلیتوں کے خلاف نفرت کو بے نقاب کردیا۔
سنٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ کے مطابق 523 گانوں کی نشاندہی کی گئی جو یوٹیوب، اسپاٹیفائی، ایپل میوزک اور میٹا کی میوزک لائبریری سمیت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے پلیٹ فارمز پر موجود ہیں۔ یہ گانے پلیٹ فارمز کی اپنی مواد سے متعلق پالیسیوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
سنٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ غیرجانبدار تھنک ٹینک ہے اور واشنگٹن ڈی سی میں قائم غیر منافع بخش تحقیقی ادارہ ہے۔ یوٹیوب پر شناخت کیے گئے 210 گانوں میں سے 104 گانے (49 فیصد) مبینہ طور پر مسلمانوں کے خلاف براہِ راست تشدد پر اکسانے یا دھمکیوں پر مشتمل ہیں۔
ان گانوں کو مجموعی طور پر کم از کم 97 ملین مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔ رپورٹ میں 53 فنکاروں کے 109 نفرت انگیز گانے اسپاٹیفائی پر شناخت کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں 103 نفرت انگیز گانوں کی نشاندہی میٹا کی میوزک لائبریری میں بھی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 59 فنکاروں کے 101 نفرت انگیز گانے ایپل میوزک پر بھی موجود ہیں۔
باقی گانے اگرچہ کھلے طور پر تشدد کی دعوت نہیں دیتے، تاہم رپورٹ کے مطابق وہ مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت کو فروغ دیتے ہیں۔
ان گانوں میں غیر انسانی زبان، توہین آمیز القابات اور سازشی نظریات شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ مواد خوف، غصے اور ایسے حالات کو جنم دیتا ہے جو حقیقی دنیا میں نشانہ بنائے گئے گروہوں کے خلاف نقصان دہ اقدامات کا سبب بن سکتے ہیں۔ رپورٹ کے اختتام پر یوٹیوب، میٹا، اسپاٹیفائی اور ایپل میوزک کے لیے متعدد سفارشات پیش کی گئی ہیں۔
ان سفارشات میں پلیٹ فارمز کو اپنی مواد سے متعلق پالیسیوں کے مؤثر نفاذ اور نفرت انگیز موسیقی کے پھیلاؤ اور مالی منفعت کو روکنے کے لیے عملی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بھارتی حکومت اور انٹر نیشنل ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز مہم کے ذمہ دار ہیں۔ بھارتی حکومت کی سرپرستی میں فروغ پانے والا نفرت انگیز بیانیہ مذہبی اقلیتوں کے خلاف تعصب، امتیاز اور سماجی جبر کو تقویت دے رہا ہے۔ آن لائن پلیٹ فارمز اور بھارتی حکام دونوں نفرت انگیز مواد کی روک تھام میں ناکامی کے باعث بھارت میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے استحصال اور ہراسانی کے ذمہ دار ہیں۔ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف نفرت اور تشدد: بھارتی حکومت اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔