وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ بدعنوان عناصر کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں جو منتخب نمائندوں کے ضمیر خریدنے میں مصروف ہیں۔ مانسہرہ میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بدعنوان عناصر مخلص رہنماؤں کو نہیں خرید سکتے۔ عمران خان نے کہا کہ حزب اختلاف کا تحریک عدم اعتماد لانے کا مقصد این آر او کیلئے ہمیں بلیک میل کرنا ہے لیکن یہ انہیں کبھی نہیں دیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اللّٰہ نے کسی کو اجازت نہیں دی اچھے اور برے کی جنگ میں نیوٹرل ہو، یا پیچھے ہٹ جائے کہ ہم کسی کے ساتھ نہیں ہیں۔یہ چوہے اکٹھے ہوئے کہتے ہیں پاکستان میں بہت برے حالات ہیں، چیلنج کرتا ہوں کسی حکومت نے ایسی پرفارمنس نہیں دی، مجھے فخر ہے میری حکومت نے ایسی پرفارمنس دی ہے، ہاتھ اٹھا کر بتاؤ تین چوہے جو شکار کرنے چلے ہیں، کیا وہ کامیاب ہوجائیں گے؟ مجھے چوہوں پر ترس آرہا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ چوہا نمبر ایک شہباز شریف، شہباز شریف نے اچکن سلوالی تھی، شہباز شریف بڑے بڑے خواب دیکھ رہا تھا، شہبازشریف کہتا ہے میں ہوتا تو ایبسلوٹلی ناٹ نہیں کہتا، شہباز شریف کہتا ہے جو بھی بوٹ دیکھتا ہوں پالش شروع کردیتا ہوں، شہباز شریف میں تمہارا نام چیری بلاسم رکھ دیتا ہوں، شہبازشریف اچکن سنبھال کر رکھ لو، یہ کسی کو دینا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اقوام متحدہ میں ہر سال 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف دن منانے کی قرارداد منظور کرانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ اقوام متحدہ نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی کو بھی اظہار رائے کی آزادی کے نام پر مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر اور معاشرے میں انصاف، مساوات اور قانون کی حکمرانی قائم کر کے یقینی طور پر ترقی کر سکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بھارت سے صرف اس صورت میں مذاکرات کیلئے تیار ہے اگر بھارت کشمیر کی پانچ اگست 2019ء سے پہلے کی ریاستی حیثیت بحال کرے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ریکوڈک کیس کے حوالے سے ایک غیرملکی کمپنی کے ساتھ تین سال تک مذاکرات کئے اور ملک کو دوہزار ارب ڈالر کے جرمانے سے بچا لیا۔انہوں نے کہا کہ ریکوڈک کے سونے اور تانبے کے بڑے ذخائر میں نو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے بلوچستان کی تقدیر بدل جائے گی۔ عمران خان نے کہا کہ ریکارڈ ٹیکس وصولی، برآمدات میں اضافے اور صنعتوں کی بحالی سے معیشت بڑی حد تک مستحکم ہوئی ہے۔خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان اور ریلوے کے وفاقی وزیر اعظم خان سواتی نے بھی جلسہ عام سے خطاب کیا۔