ایم کیوایم رہنماؤں کا فوری 28ویں ترمیم لانے کا مطالبہ

ایم کیوایم رہنماؤں کا فوری 28ویں ترمیم لانے کا مطالبہ
کیپشن: ایم کیوایم رہنماؤں کا فوری 28ویں ترمیم لانے کا مطالبہ

ویب ڈیسک: متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں نے 28ویں آئینی ترمیم فوری طور پر لانے اور آئین کے آرٹیکل 140 اے کو مؤثر بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں بااختیار بلدیاتی نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی نے مصطفیٰ کمال، امین الحق اور انیس قائم خانی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جس جنگ کا ذکر گزشتہ کئی دہائیوں سے کیا جا رہا تھا وہ اب ملک کے دروازے پر آ پہنچی ہے، اور اس کے خاتمے کے لیے پاکستان کی حکومت اور مسلح افواج نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آرٹیکل 140 اے کو اٹھارویں ترمیم کے بعد نظر انداز کیا جا رہا ہے تو 28ویں ترمیم کے ذریعے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی تمام قومیتوں اور زبانیں بولنے والوں کے لیے متحد ہونے کا وقت آ چکا ہے، کیونکہ دشمن براہ راست جنگ میں شکست نہ دے سکے تو سازشوں کے ذریعے انتشار پھیلاتا ہے۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کراچی دشمن کے لیے ایک آسان ہدف بن سکتا ہے، حالانکہ یہ شہر پاکستان کی معیشت کی شہ رگ ہے، اس لیے اسے نظر انداز کر کے ملک کا استحکام ممکن نہیں۔

اس موقع پر فاروق ستار نے کہا کہ ہر شہری کو اپنی دہلیز پر فیصلے کرنے کا اختیار دیا جانا چاہیے اور ملک میں مؤثر و بااختیار بلدیاتی نظام قائم کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے جاگیردارانہ طرز سیاست کے خاتمے اور مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔

انہوں نے کراچی اسٹریٹجک ڈیولپمنٹ پلان پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اختیارات دیے بغیر کسی میئر کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، اور ملک کے اضلاع و شہروں کو خودمختار بنانے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ملک کو درپیش ہر بحران سے نمٹنے کے لیے قوم کو تیار رہنا ہوگا اور دشمن کے عزائم کو ناکام بنانا ضروری ہے۔

ایم کیو ایم رہنماؤں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ انہیں مشاورت کے لیے بلایا جائے اور ملک کی موجودہ صورتحال کے مطابق واضح حکمت عملی اختیار کی جائے، تاکہ اختیارات عوام تک منتقل کیے جا سکیں اور جمہوری نظام کو مضبوط بنایا جا سکے۔

Watch Live Public News