جے یو آئی  نے 27 ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

جے یو آئی  نے 27 ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

(ویب ڈیسک )جمیعت علماء اسلام (جے یو آئی) ف  نے 27 ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا۔

جے یو آئی کے سربراہ  مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جمیعت علمائے اسلام پاکستان کی مرکزی مجلس شوری کا دو روزہ اجلاس ہوا،اجلاس  23 اور 24 نومبر کو یہاں اسلام اباد میں ہوا ۔اس اجلاس میں 27 ویں آئینی ترمیم اور بعض ایسے قوانین اس دوران پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے پاس کیے گئے اس پر تفصیلی غور کیا گیا ۔

انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے 27 ویں آئینی ترمیم کو مکمل مسترد کر دیا ہے۔پارلیمنٹ میں ہمارے پارلیمانی اراکین نے اس کی مخالفت کی۔ایک سال قبل26 ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں لائی گئی اور ایک ماہ ایک ہفتہ تک جے یو آئی کیساتھ حکومت نے مذاکرات کئے ،پاکستان تحریک انصاف آن بورڈ لی گئی اور ہم آئینی ترمیم کے حوالے سے ہر پیش رفت بارے آگاہ بھی کرتے رہے ،پی ٹی آئی کی تجاویز بھی 26 ویں ترمیم میں ان کی تجاویز بھی لیں اور حکومت سے منواتے رہے،26 ویں ترمیم باہمی مشاورت سے آگے بڑھی اور کہا جاسکتا ہے کہ وہ متفقہ منظور ہوئی ۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم مسلسل متوجہ کرتے رہے کہ ایسی کوئی ترمیم منظور نہ ہو جس سے متفقہ ٹائٹل مجروح ہو،27 ویں ترمیم میں انکا فرض تھا کہ وہ اپوزیشن کو اعتماد میں لیتے ،26 ویں ترمیم ہمارے ساتھ عہدو پیمان تھا اور 27 ویں میں ہمیں نظر انداز کیا ،اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ جبری طور پر پارٹی سے لوگوں کو توڑا اور جبری و جعلی تعداد پوری کی گئی ،سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہوریت کے اقدار کے خلاف ہوا ،اس سے حکومت کی عزت میں اضافہ نہیں ہوا ،جو قوتیں اس ترمیم کو لانے میں مصر تھیں ان کی عزت میں بھی اضافہ نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ جن چیزوں سے وہ 26 ویں میں دستبردار ہوئی وہ 27 ویں ترمیم میں ہاتھ مروڑ کر منظور کرائی گئیں ،26 ویں ترمیم میں اگر کوئی اشکال و ابہام تھا تو اسے حق تھا کہ وہ عدالت میں جائے ،اس ترمیم کا عدلیہ سے متعلق امور پر عدالت میں گئے اور معاملہ زیر سماعت تھا کہ دوسری ترامیم لائی گئیں، اب عدالت کو بھی سمجھ نہیں آرہا کہ اس پر کیا رائے قائم کی جائے ،اصولی طور پر ہم آئینی عدالت کے حق میں ہیں مگر اس پر اتفاق رائے لازمی تھا ،اسی وجہ سے ہم نے عدالتی بینچ پر اکتفا کیا، جب آئین بنایا گیا تو اس وقت سب کا اتفاق رائے تھا ۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا ہک آئین کی تشکیل کے وقت پیپلز پارٹی کے پاس واضح دو تہائی اکثریت تھی مگر اس وقت اپوزیشن، چھوٹے صوبوں اور تمام مکاتب فکر کو اعتماد میں لیا گیا تھا ،کس طرح جمہوری رویوں کے برعکس 27 ویں ترمیم کے حق میں پیپلز پارٹی نے بھی ووٹ دیا ،پیپلز پارٹی نے اپنی روایات کو برقرار نہیں رکھا، ایک غیر جمہوری عمل میں حکومت کا ساتھ دیا ،آئین قومی امانت ہے، قومی اثاثہ ہے، میثاق ملی ہے، پاکستان کی قومی وحدت کی علامت ہے ۔

Watch Live Public News