ویب ڈیسک: چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ آج ریٹائر ہونے جارہے ہیں۔ آج سپریم کورٹ میں اس مناسبت سے فل کورٹ ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں ججز وکلاء کے علاوہ بہت سی دیگر شخصیات نے بھی شرکت کی۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیلئے منعقد کیے گئے فل کورٹ ریفرنس میں ایک خصوصی مہمان نے شرکت کی۔ جس کی آمد سے شرکاء بھی دنگ رہ گئے۔
یہ خصوصی مہمان ماضی کے مایہ ناز کرکٹر ماجد خان تھے۔ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مبینہ طور پر ان کے ہی کزن عمران خان نے ان کا کیریئر ختم کیا تھا۔
یادرہے عمران خان کرکٹ میں اپنے کزن ماجد خان کو ہی اپنا ہیرو تصور کرتے ہیں اور ان سے انسپائر ہوکر ہی کرکٹ کھیلنا شروع کی تاہم ماجد خا ن انہیں اپنا کیرئر کے خاتمے کا اہم کردار تصور کرتے ہیں ۔ اور ابھی تک ان کے دل میں وہ خلش برقرار ہے ۔
ہوا کچھ یوں سنہ 1982 قومی ٹیم کے کپتان آصف اقبال کے ریٹائر ہونے کے بعد کراچی سے تعلق رکھنے والے 24 سالہ نوجوان کھلاڑی جاوید میانداد کو ٹیم کا کپتان بنایا گیا۔ ٹیم میں اس وقت کئی کھلاڑی جاوید میانداد سے زیادہ تجربہ کار تھے اور انہیں یہ فیصلہ قطعاً پسند نہ آیا۔
جاوید میانداد نے بطور کپتان اگرچہ آسٹریلیا کے خلاف اپنی پہلی سیریز جیت لی مگر اگلی دو سیریز میں ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
1982 میں سری لنکا کے خلاف سیریز کے لئے انہیں قومی ٹیم کا کپتان برقرار رکھا گیا۔ سیریز سے پہلے جاوید میانداد کو یہ شکایت کرتے سنا گیا کہ سینیئر کھلاڑی ان کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے۔ اس شکایت کے ردعمل میں لاہور سے تعلق رکھنے والے سینیئر کھلاڑی ماجد خان نے قومی ٹیم کے 9 کھلاڑیوں کو اپنے گھر پر دعوت دی اور انہیں جاوید میانداد کی کپتانی میں نہ کھیلنے پر راضی کر لیا۔
ان باغی کھلاڑیوں میں ظہیر عباس، مدثر نذر، عمران خان، سکندر بخت، محسن خان، سرفراز نواز، وسیم باری، اقبال قاسم اور وسیم راجہ شامل تھے۔
بغاوت کے خلاف پاکستان کرکٹ بورڈ نے جاوید میانداد کا ساتھ دیا اور سری لنکا کے خلاف وہ ایک بالکل نئی ٹیم لے کر میدان میں اترے۔ کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں جب پہلا ٹیسٹ میچ جاری تھا تو نوجوان تماشائیوں نے باغی کھلاڑیوں کو کراچی مخالف اور پنجابی ٹھگ کہتے ہوئے ان کے خلاف زبردست نعرے بازی کی اور سٹیڈیم میں ماجد خان، ظہیر عباس اور عمران خان کے پتلے بھی جلائے گئے۔
کراچی کے میڈیا نے بھی ماجد خان پر سخت الفاظ میں تنقید کی کہ وہ لاہور لابی کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں اور صرف اس لئے جاوید میانداد کی مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ وہ کراچی والے ہیں اور غیر پنجابی ہیں۔ اگرچہ باغی کھلاڑیوں میں سے پانچ کا تعلق کراچی سے تھا مگر پھر بھی کراچی پریس نے اس ساری بغاوت کو پنجابی شاونزم ہی قرار دیا۔ بعد میں جاوید میانداد نے قومی ٹیم کو پھر سے جوڑنے کی غرض سے خود ہی کپتانی چھوڑنے کا اعلان کر دیا اور کہا کہ وہ ماجد خان کے علاوہ کسی بھی کپتان کے ساتھ کھیلنے کو تیار ہیں۔ چنانچہ ان کے بعد عمران خان کو قومی ٹیم کا کپتان بنا دیا گیا۔
یوں عمران خان وہ کپتان بنے جنہوں نے پہلی فرصت میں اپنے کزن اور استاد ماجد خان کو ٹیم سے فارغ کر دیا۔