کراچی؛ پولیس حراست میں مبینہ تشدد سے نوجوان کی ہلاکت، دو اہلکار گرفتار

کراچی؛ پولیس حراست میں مبینہ تشدد سے نوجوان کی ہلاکت، دو اہلکار گرفتار

ویب ڈیسک: کراچی میں ایس آئی یو پولیس کی حراست میں مبینہ تشدد سے نوجوان کی ہلاکت کا واقعہ، واقعے کا مقدمہ ایس ایچ او ایس آئی یو کی مدعیت میں درج،  پولیس نے تشدد کرنے والے دو اہلکاروں کو گرفتار کر لیا، دوسری جانب لواحقین اور پولیس کے درمیان مذاکرات 7 گھنٹے بعد کامیاب ہوگئے۔ 

اطلاعات کے مطابق مقدمہ الزام نمبر 443/25 صدر تھانے میں درج کیا گیا،ایف آئی آر کے متن کے مطابق  دوران حراست عرفان  کی طبیعت خراب ہوئی اور وہ بے ہوش ہو گیا،تفتیش کرنے والے اے ایس آئی عابد اور سرفراز ملزم سے تفتیش کررہے تھے۔

مدعی مقدمہ کا کہنا تھا کہ پولیس افسران مجھے بتائے بغیر زیر حراست نوجوان کو اسپتال لے گئے،زیر حراست افراد کے خلاف درج مقدمہ مشکوک ہے،محمد عرفان بعد ازاں انتقال کر گیا۔

مقدمہ زیر دفعہ 319/34کے تحت نامزد 6اہلکاروں کے خلاف درج کیا گیا ہے

واقعے کا مقدمہ ایس ایچ او ایس آئی یو کی مدعیت میں پولیس اہلکاروں کیخلاف  درج کرلیاگیا، ایف آئی آر میں کہاگیاہے دوران حراست عرفان کی طبیعت خراب ہوئی وہ بے ہوش ہو گیاتھا پولیس افسران  بتائے بغیر زیر حراست نوجوان کو اسپتال لے گئے۔ 

 پولیس نے تشدد کرنے والے دو اہلکاروں کو گرفتار کر لیا،  واقعے کا مقدمہ آج درج کیا گیا تھا، گرفتار ہونے والوں  میں اے ایس آئی عابد شاہ اور پولیس کانسٹیبل آصف علی شامل ہیں۔

 دوسری طرف سی آئی اے ایس آئی یو پولیس کے ہاتھوں عرفان کے قتل کا واقعہ پر لواحقین کی جانب سے بھرپور احتجاج کیا گیا، بعد میں لواحقین اور پولیس کے درمیان مذاکرات سات گھنٹے بعد کامیاب ہوئے۔

ورثاء عرفان کی میت کو آبائی شہر بہاولپور لےکر روانہ ہوگئے۔ 

Watch Live Public News