ویب ڈیسک: وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان آج واشنگٹن میں ایک اہم ملاقات طے پا گئی ہے۔ جس کی وائٹ ہاؤس نے باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ ملاقات مقامی وقت کے مطابق شام ساڑھے چار بجے اوول آفس میں ہوگی، جہاں دونوں رہنما عالمی اور علاقائی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔ اس اہم نشست میں پاکستان کی عسکری قیادت کی شمولیت بھی متوقع ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر بھی ملاقات کے دوران موجود ہوں گے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ٹرمپ کی یہ ملاقات اس وقت ہو رہی ہے جب عالمی سیاست کئی حساس مراحل سے گزر رہی ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان سکیورٹی تعاون، علاقائی امن، تجارتی تعلقات اور مشرقِ وسطیٰ کی تازہ صورتحال پر بات چیت کی توقع ہے۔ اس ملاقات کو پاک-امریکہ تعلقات میں ایک نئے باب کے آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں مختلف تنازعات عالمی برادری کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
اس سے قبل نیویارک میں اسلامی ممالک کے سربراہ اجلاس کے دوران بھی وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر رسمی ملاقات ہوئی تھی۔ ذرائع کے مطابق دونوں رہنما کافی دیر تک بے تکلف انداز میں گفتگو کرتے رہے، صدر ٹرمپ نے اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے بھی مصافحہ کیا اور بات چیت کے اختتام پر وزیراعظم کو تھمبز اپ (Thumbs Up) کا دوستانہ اشارہ دیا۔
وزیراعظم نے نیویارک میں اسلامی ممالک کے دیگر سربراہان سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں امیر قطر، اردن کے بادشاہ اور انڈونیشیا کے صدر شامل تھے۔ ان ملاقاتوں کے دوران غزہ میں جنگ بندی کے امور اور مسلم دنیا کے باہمی تعاون پر اہم بات چیت کی گئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آج ہونے والی شہباز-ٹرمپ ملاقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہوگی اور دونوں ملکوں کے تعلقات میں نئی سمت متعین کر سکتی ہے۔