آبنائے ہرمز میں امریکی فوج کا جدید لیزر ہتھیاروں کا استعمال

آبنائے ہرمز میں امریکی فوج کا جدید لیزر ہتھیاروں کا استعمال
کیپشن: آبنائے ہرمز میں امریکی فوج کا جدید لیزر ہتھیاروں کا استعمال

ویب ڈیسک: امریکی فوج آبنائے ہرمز میں ڈرونز اور کروز میزائلوں کے خلاف ہائی انرجی لیزر ہتھیار استعمال کر رہی ہے، جنہیں ایکس باکس سے ملتے جلتے کنٹرولرز کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔

امریکی محکمہ جنگ کے مطابق یہ لیزر نظام فضائی اہداف کو تباہ یا ناکارہ بنانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ان کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ ہر ہدف کے لیے الگ میزائل یا انٹرسیپٹر درکار نہیں ہوتا، جس سے بعض حالات میں دفاعی لاگت کم ہوسکتی ہے۔

یہ نظام جنریٹرز یا بیٹریوں سے توانائی لے کر انتہائی مرکوز لیزر شعاع پیدا کرتا ہے، جو ہدف پر شدید حرارت پیدا کرکے اسے ناکارہ بنا سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق لیزر ڈرونز کے سینسرز کو بھی متاثر کرسکتا ہے، تاہم اس کی مؤثریت فاصلے، موسم، ہدف اور دستیاب توانائی سمیت مختلف عوامل پر منحصر ہے۔

امریکی فوج نے کنٹرول کے لیے گیمنگ کنسول سے ملتے جلتے کنٹرولر کا انتخاب کیا ہے۔ حکام کے مطابق گیمنگ انڈسٹری میں پہلے سے مؤثر کنٹرولرز دستیاب ہونے کے باعث نیا کنٹرول سسٹم تیار کرنے کی ضرورت نہیں۔

مشرق وسطیٰ میں تعینات لیزر نظام حجم اور وزن کے باعث زیادہ تر جنگی بحری جہازوں پر نصب کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ’ہیلیوس‘ نظام 60 کلو واٹ ہائی انرجی لیزر سے اہداف کو نشانہ بناتا ہے۔

امریکی فوج لیزر ہتھیاروں کے پروگرام پر تقریباً 500 ملین ڈالر خرچ کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی روایتی انٹرسیپٹرز اور گولہ بارود کی ضرورت کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم اس کی کارکردگی کا انحصار عملی حالات پر ہوگا۔

Watch Live Public News