ویب ڈیسک: ایسٹر کے دن دنیا سے رخصت ہونے والے پوپ فرانسس کے انتقال پر دنیا بھر سے لوگ تعزیت کے لیے ویٹی کن کا رخ کر رہے ہیں۔ ان کی تدفین ہفتے کے روز سینٹ پیٹرز اسکوائر میں انجام دی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق 88 سال کی عمر میں وفات پانے والے پوپ فرانسس کی آخری رسومات کے بعد نئے پوپ کے انتخاب کا عمل شروع کیا جائے گا، جس کے لیے کارڈینلز میں سے کسی ایک کو منتخب کیا جائے گا۔
اسی دوران یہ سوال بھی ایک بار پھر سامنے آیا ہے کہ آیا کوئی خاتون بھی پوپ بن سکتی ہے؟ تاہم کیتھولک عقائد اور ضوابط کے مطابق پوپ کا انتخاب صرف کسی مرد بپتسمہ یافتہ کیتھولک پادری ہی میں سے کیا جا سکتا ہے، کیونکہ پادری کا منصب بھی صرف مردوں کے لیے مخصوص ہے۔
1994 میں پوپ جان پال دوم اس مسئلے پر دو ٹوک مؤقف دے چکے ہیں کہ چرچ کے پاس خواتین کو پادری بنانے کا اختیار نہیں، کیونکہ یسوع مسیح نے اپنے 12 حواریوں میں صرف مردوں کو شامل کیا تھا، اور صدیوں سے یہ روایت اسی اصول پر قائم ہے۔
تاہم انتقال پانے والے پوپ فرانسس نے اپنے دور میں چرچ میں خواتین کو نمایاں انتظامی مناصب پر ضرور فائز کیا، لیکن وہ بھی خاتون کو پادری یا پوپ بنانے کے حامی نہیں تھے۔