(ویب ڈیسک )وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ انہوں نے پمز اسپتال سانحے پر خود کو احتساب کےلیے وزیر اعظم شہبازشریف کے آگے پیش کردیا۔
مصطفیٰ کمال نے پمز اسپتال کے باہر میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی تاریخ کا دل خراش واقعہ ہے، 14 نومولود بچے جان سے گئے،بچوں کی عمریں 2 دن ہیں، ماوں کے ساتھ دلی تعزیت کرتا ہوں،جو بچے جان سے گئے وہ شہادت کا درجہ رکھتے ہیں، جو بھی غلطی کا مرتکب ہوا اسے نہیں چھوڑیں گے۔
استعفا دینے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ احتساب کیلئے سب سے پہلے خود کو وزیراعظم کے آگے پیش کیا ہے، وزیراعظم میرے باس ہیں، وہ جو بھی فیصلہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ دوسرے دروازے پر گارڈ کی 24 گھنٹے ڈیوٹی ہے، اسی دروازے سے نومولود چوری ہوتے تھے، انخلا کے راستےمیں گارڈ کی ڈیوٹی ہے وہ 24 گھنٹے وہاں ہوتے ہیں، بچوں کے چوری ہونے کی وجہ سے ایک دروازے پرگارڈ کی تعیناتی تھی۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 6 بج کر 38 منٹ پر نظر آرہا ہے کہ ایئرکنڈیشن کے پاس اسپارک ہوا ہے، 6 بج کر 39 منٹ پر لوگوں کو بھاگتے دیکھا جاسکتا ہے، اس پورے واقعے کی تحقیقات کررہے ہیں، انکوائری رپورٹ دو تین روز میں آجائے گی، اگر کسی نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی تواسکو نہیں چھوڑیں گے۔