ویب ڈیسک: ایپل کی آئندہ آئی فون 18 سیریز کی قیمتوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ تازہ رپورٹ کے مطابق کمپنی نئے ماڈلز کی قیمتوں میں اضافہ تو کرے گی، تاہم یہ اضافہ ابتدائی اندازوں سے کم ہونے کا امکان ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایپل کے چیف ایگزیکٹو ٹم کک نے رواں ماہ کے آغاز میں عندیہ دیا تھا کہ میموری (RAM) کی عالمی قلت کے باعث آئی فونز کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہوگا، تاہم اس وقت انہوں نے ممکنہ اضافے کی تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔
اب سرمایہ کاری کے ادارے جے پی مورگن کے ایک تجزیہ کار کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایپل ہر نئے آئی فون ماڈل کی قیمت میں گزشتہ نسل کے مقابلے میں 50 ڈالر تک اضافہ کر سکتا ہے، جبکہ پیداواری لاگت کم رکھنے کے لیے کمپنی اپنے تیار کردہ C-Series موڈمز سمیت دیگر متبادل ٹیکنالوجیز استعمال کرے گی۔
رپورٹ کے مطابق آئی فون 18 پرو کی ابتدائی قیمت 1,149 ڈالر جبکہ آئی فون 18 پرو میکس کی قیمت 1,249 ڈالر سے شروع ہونے کا امکان ہے، جو موجودہ ماڈلز کے مقابلے میں 50 ڈالر زیادہ ہوگی۔
اس سے قبل بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ آئی فون 18 سیریز کی قیمتوں میں 200 ڈالر تک اضافہ کیا جا سکتا ہے، تاہم نئی پیش گوئی کے مطابق قیمتوں میں اضافہ اس سے کہیں کم رہنے کا امکان ہے۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت (AI) ڈیٹا سینٹرز کی تیزی سے بڑھتی تعمیر اور میموری و اسٹوریج چپس کی طلب میں اضافے کے باعث عالمی سطح پر ان پرزہ جات کی قلت پیدا ہو گئی ہے، جس سے اسمارٹ فونز کی تیاری کی لاگت بھی بڑھ رہی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق آئی فون 18 پرو میں استعمال ہونے والے میموری اور اسٹوریج پرزہ جات کی لاگت، آئی فون 17 پرو کے مقابلے میں تقریباً 150 ڈالر زیادہ ہو سکتی ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایپل اس سال اپنے آئی فونز متعارف کرانے کی روایتی حکمتِ عملی میں بھی تبدیلی کر رہا ہے۔ توقع ہے کہ ستمبر میں آئی فون 18 پرو ماڈلز کو کمپنی کے پہلے فولڈ ایبل آئی فون کے ساتھ پیش کیا جائے گا، جبکہ آئی فون 18 اور آئی فون ایئر 2 کو 2027 کے آغاز میں متعارف کرایا جا سکتا ہے۔