(ویب ڈیسک ) مغربی افریقی ملک گِنی بِساؤ میں بغاوت ہوگئی ۔ فوج نے صدر کو گرفتار کرکے اقتدار سنبھالنے کا دعویٰ کردیا۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق گِنی بِساؤ میں فوجی افسران کے ایک گروپ نے ملک پر “مکمل کنٹرول” حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ اعلان اُس وقت سامنے آیا جب صدارتی انتخاب کے دونوں اہم امیدواروں نے اپنی جیت کا اعلان کردیا تھا۔
خود کو “ہائی ملٹری کمانڈ فار دی ریسٹوریشن آف آرڈر” کہلانے والے ان افسران نے سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک بیان پڑھ کر سنایا، جس میں انہوں نے انتخابی عمل کو “اگلے اعلان تک” فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دیا۔
انہوں نے تمام زمینی، فضائی اور سمندری سرحدیں بند کرنے اور رات کے وقت کرفیو نافذ کرنے کے احکامات بھی جاری کیے۔
یہ اقدام اس کے فوراً بعد سامنے آیا جب دارالحکومت بِساؤ میں الیکشن کمیشن کے ہیڈکوارٹر، صدارتی محل اور وزارت داخلہ کے دفترکے قریب مسلسل فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں۔
اتوار کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے نتائج جمعرات کو متوقع تھے۔ اس انتخاب میں موجودہ صدر عمرو سسکو ایمبالو اور ان کے مرکزی حریف فرنینڈو ڈیاس مدِ مقابل تھے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق صدرایمبالو اور مرکزی اپوزیشن جماعت پی اے آئی جی سی کے سربراہ، ڈومِنگوس سیموئز پریرا، کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔

متنازع انتخاب:
1974 میں پرتگال سے آزادی کے بعد سے گِنی بِساؤ کئی بغاوتوں اور بغاوت کی کوششوں کا سامنا کر چکا ہے۔اس ہفتے ہونے والے انتخابات کی شفافیت پر سول سوسائٹی اور دیگر مبصرین نے سوال اٹھائے ہیں کیونکہ پی اے آئی جی سی کو صدارتی امیدوار کھڑا کرنے سے روک دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ گِنی بِساؤ کے 2019 کے آخری صدارتی انتخابات میں بھی 4 ماہ کا بحران رہا تھا کیونکہ دونوں اہم امیدواروں نے جیت کا دعویٰ کیا تھا۔ اُس وقت کی انتخابی دوڑ ایمبالو اور پی اے آئی جی سی کے سربراہ پریرا کے درمیان تھی۔