ویب ڈیسک: جرمنی میں ایک دلچسپ واقعہ رونما ہوا ہے۔ جہاں شہری نے خواتین کی جیل میں رہنے کیلئے اپنی جنس ہی تبدیل کروالی ہے۔
تفصیلات کے مطابق شہری کی شناخت سوین لیچ کے نام سے ہوئی ہے۔ جس کا نیا نام مارلا سوبنجا لیچ رکھا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ملزم کو گزشتہ سال نفرت انگیزی، غیرقانونی دخل اندازی اور توہین آمین پروپیگنڈا جیسے جرائم میں ملوث ہونے پر 18 ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
نومبر 2024 میں متعارف ہونے والے خود ارادیت ایکٹ کے تحت جرمن شہریوں کو اب ڈاکٹر یا عدالتی کارروائی کے بغیر صرف ایک فارم دستخط کر کے قانونی طور پر جنس تبدیل کرنے کی سہولت حاصل ہے۔لیبچ نے اسی قانون کی مدد سے اپنے شناختی دستاویزات میں تبدیلی کروائی اور اپنی جنس تبدیل کر کے “خاتون” بن گئیں، جس کے بعد انھیں خواتین کی جیل میں رکھنے کی اجازت دینے پر تنازعہ پیدا ہوا۔
لیبچ کا یہ اقدام خاص طور پر ان کے ماضی میں ایل جی بی ٹی کیو برادری سے متعلق نفرت انگیز موقف کیوجہ سے تنقید کا نشانہ بنا ہے۔ کئی مبصرین نے اسے ’’ جنس تبدیل کرنے کے قانون کا غلط استعمال‘‘ قرار دیا ہے۔ جرمن چیف پبلک پراسیکیوٹر اور قانونی ماہرین نے خواتین کی جیل میں لیبچ کی موجودگی کو سلامتی کا خطرہ قرار دیا اور کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو انھیں مردوں کی جیل منتقل بھی کیا جا سکتا ہے۔