(ویب ڈیسک) ترکیہ کی ایک عدالت نے ایک تاریخی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ شوہر کا سوشل میڈیا پر دوسری خواتین کی تصاویر کو لائک کرنا طلاق کی بنیاد بن سکتا ہے۔
یہ غیر معمولی مقدمہ ترکیہ کے شہر قیصری (Kayseri) میں دائر کیا گیا، جہاں ایک مقامی خاتون نے اپنے شوہر کے خلاف طلاق کی درخواست دی۔
خاتون نے موقف اخیتار کیا کہ اس کا شوہر اسے زبانی طور پر ذلیل کرتا اور برا بھلا کہتا تھا، اس کے ساتھ ساتھ وہ سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وقت گزارتا، دوسری خواتین کی تصاویر کو لائک کرتا اور ان پر کمنٹس بھی کرتا تھا۔
خاتون کے وکلا نے مالی ہرجانے کا مطالبہ کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ شوہر نے ازدواجی وفاداری کے فرض کی خلاف ورزی کی ہے۔
دوسری جانب شوہر نے الزامات کی تردید کی اور الٹا طلاق کی درخواست دائر کر دی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کی بیوی نے اس کے والد کی توہین کی اور اس کی حد سے بڑھی ہوئی حسد کی عادت نے اس کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔
عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل اور شواہد کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ دیا کہ شوہر زیادہ قصوروار ہے۔ عدالت نے شوہر کو 750 ترک لیرا (تقریباً 20 ڈالر) ماہانہ نان نفقہ ادا کرنے اور 80 ہزار ترک لیرا (تقریباً 2 ہزار ڈالر) بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
عدالتی فیصلے میں کہا کہ“بظاہر بے ضرر نظر آنے والی آن لائن سرگرمیاں جذباتی عدم تحفظ کو بڑھا سکتی ہیں اور ازدواجی تعلق کے توازن کو بگاڑ سکتی ہیں۔”
شوہر نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی اور مؤقف اختیار کیا کہ مالی ادائیگی حد سے زیادہ ہے، تاہم اس کی اپیل مسترد کر دی گئی۔
جج کا کہنا تھا کہ دوسری خواتین کی تصاویر کو لائک کر کے شوہر نے شادی میں اعتماد کو نقصان پہنچایا۔
اگرچہ یہ کیس بظاہر دلچسپ اور حیران کن معلوم ہوتا ہے، مگر ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے ترکیہ میں طلاق کے مقدمات پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ بعض وکلا کا کہنا ہے کہ آئندہ سوشل میڈیا پر لائکس، کمنٹس اور دیگر آن لائن سرگرمیاں طلاق کے مقدمات میں مضبوط ثبوت کے طور پر استعمال کی جا سکیں گی۔