ویب ڈیسک: کووڈ کا مرض ووہان لیبارٹری سے لیک ہونیوالے جراثیم کی وجہ سے پھیلا۔ امریکا کی نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ نے ایف بی آئی کی بریفنگ سےصدر جو بائیڈن کو جان بوجھ کر بے خبر رکھا۔
نیویارک پوسٹ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آئی، واحد ایجنسی ہے جس نے ’’لیب لیک ’’کو COVID-19 کی سب سے ممکنہ وجہ قرار دیا ہے۔
ایف بی آئی، جس کے پاس پختہ شواہد موجود تھے کہ COVID-19 ممکنہ طور پر لیب لیک سے پیدا ہوا تھا تاہم نامعلوم وجوہ کی بنا پر فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن اور صدر جوبائیڈن کو نیشنل انٹیلی جنس کونسل کی اگست 2021 کی بریفنگ میں جان بوجھ کر شرکت نہیں کرنے دی گئی۔
ایف بی آئی کے ایک سابق سینئر سائنس دان جیسن بینن نے اس امر پر اظہارحیرت کا اظہار کیا کہ ان کے نتائج کو صدر کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔ محکمہ دفاع اور ایف بی آئی کے سائنسدانوں کو لیب لیک ڈیٹا شیئر کرنے سے روک دیا گیا۔
نیویارک پوسٹ کے مطابق، ڈاکٹر جیسن بینن، مائیکرو بائیولوجسٹ اور ایف بی آئی کے سابق سینئر سائنسدان جنہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ایف بی آئی کے ساتھ مل کر COVID-19 کی ابتداء کی تحقیقات کے لیے وقف کر دیا، کو بھی نیشنل انٹیلیجنس کونسل کی ایک اہم بریفنگ سے خارج کر دیا گیا۔
اس کی بجائے نیشنل انٹیلیجنس کونسل نے جس کےپاس چار انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ان پٹ شامل تھے نے اس تھیوری کو اختیار کیا کہ COVID-19 ممکنہ طور پر "جینیاتی طور پر انجینئرڈ" ہونے کے بجائے جانوروں کی منتقلی سے پیدا ہوا ہے اور کہا گیا کہ یہ وائرس ووہان کی ’’ ویٹ مارکیٹ’’ میں چمگادڑ سے پھیلا ہے، جہاں سے 2019 میں پہلی بار وباء شروع ہوئی تھی۔
ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے تین سائنس دانوں (جان ہاردھم، رابرٹ کٹلپ، اور جین پال کریٹین) نے اس کی اصل اوریجن کی تحقیقات شروع کر دیں اور ایسے کئی نکات سامنے آئے جس کے مطابق جراثیم ’’لیب لیک’’ سے پھیلے جبکہ ڈاکٹر اینتھونی فاؤچی سمیت بہت سے لوگوں نے اس نظریہ کی حمایت کی کہ وائرس قدرتی طور پر پیدا ہوا۔
نیو یارک پوسٹ کے مطابق "جن سائنسدانوں کے پاس موضوع کی مہارت تھی انہیں خاموش کر دیا گیا،" انہوں نے مزید کہا کہ بائیڈن اور دیگر امریکی حکام شواہد کے بارے میں "مکمل طور پر بے خبر" تھے۔
وسل بلور لیفٹیننٹ کرنل جوزف مرفی کا دعویٰ ہے کہ SARS-CoV-2 جیسے ’’انجینئرڈ وائرس’’ کے لیے "بلیو پرنٹ" کی دستاویزات کو غیر محفوظ طور رکھا گیا۔
جبکہ ایک چینی ملٹری ریسرچر نے کچھ ہفتوں بعد وائرس ویکسین کے پیٹنٹ کے لیے درخواست دی تھی اور ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی کے ریسرچر بھی ایسا وائرس بنانے کی ٹیکنالوجی پر امریکی سائنسدانوں کے ساتھ کام کرتے رہے۔
ان شواہد کو بڑی حد تک نظر انداز کیا گیا اور سائنسدانوں کو اسے کانگریس یا ایف بی آئی کے ساتھ شیئر کرنے سے منع کر دیا گیا۔
یادرہے ایف بی آئی، واحد امریکی ایجنسی تھی جس نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ’’لیب لیک’’ ہونے کا سب سے زیادہ امکان ہے۔ تاہم اس ایجنسی کو ان میٹنگز میں مدعو ہی نہیں کیا گیا۔
ایف بی آئی واحد ایجنسی تھی جس کا پختہ یقین تھا کہ وائرس ممکنہ طور پر کسی لیبارٹری سے پیدا ہوا ہے، پھر بھی اسے اپنے نتائج بتانے کے لیے مدعو نہیں کیا گیا۔
وال اسٹریٹ جرنل کےساتھ اپنے انٹرویو میں ایف بی آئی کے سائنٹسٹ بنن نے کہا کہ ایف بی آئی واحد ایجنسی تھی جس نے یہ اندازہ لگایا ہمیں توقع تھی کہ ایف بی آئی کو بریفنگ میں شرکت کے لیے کہا جائے گا۔ تاہم حیرت کی بات ہے کہ وائٹ ہاؤس نے ہمیں نہیں پوچھا۔
ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس (DNI) کے ترجمان نے وضاحت کی کہ بریفنگ میں انٹیلی جنس کمیونٹی کے اندر تمام نقطہ نظر کی مناسب نمائندگی کی گئی تھی۔ اور کسی بھی انفرادی ایجنسی کو میٹنگ میں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔
ترجمان نے دعویٰ کیا کہ DNI اور نیشنل انٹیلی جنس کونسل (NIC) نے یقینی بنایا کہ COVID-19 کی ابتداء پر ان کا کام معروضی تھا اور تجزیاتی معیارات پر عمل کیا گیا تھا۔
جبکہ ایف بی آئی کے ایک ترجمان نے تصدیق کی کہ ایجنسی کو یقین ہے کہ COVID-19 کے عالمگیر پھیلاؤ کی اصل ممکنہ وجہ ووہان میں لیبارٹری کا واقعہ تھا۔
" ایف بی آئی کے ایجنٹوں اور تجزیہ کاروں نے مرض کا انٹیلی جنس مطالعہ کیا اور وبائی امراض کے آغاز سے لے کر اب تک 80 سے زیادہ لوگوں کے 200 سے زیادہ انٹرویوز کیے ہیں۔"