(ویب ڈیسک )امریکا میں زیر تعلیم طلبا کو سکروٹنی کی زد میں آنے کا خوف، یونیورسٹیز نے طلبا پر زور دیا ہے کہ وہ امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حلف اٹھانے سے قبل اپنے تعلیمی اداروں میں حاضری یقینی بنائیں۔
یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق نو منتخب صدر ڈونلڈ پپرمٹ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ جہادیت ، سام مخالف اور امریکا مخالف طلبا کے ویزے منسوخ کرکے ان کو ملک بدر کردیں گے جبکہ دیگر طلبا کو گرین کارڈ دینے کا حکم دیں گے ۔
یادرہے اپنی پہلی مدت صدارت میں صدرڈونلڈ پرمٹ نے حلف اٹھاتے ہی ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ایران، عراق، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن سے امریکا آنے والے مسافروں پر پابندی نافذ کردی تھی۔
سخت امیگریشن پالیسی اور تارکین وطن کیخلاف کریک ڈاؤن کے خوف سے کارنیل یونیورسٹی کے گلوبل لرننگ کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ صدرڈونلڈ ٹرمپ کے حلف اٹھاتے ہی سفری پابندی کے نفاذ کا امکان ہے اور اس فہرست میں مندرج بالا مسلم ممالک کے علاوہ کرغزستان، نائیجریا ، میانمار، سوڈان ، تنزانیہ، شمالی کوریا،شام، وینزویلا، یمن کے شہریوں اور ممکنہ طور پر چین اور بھارت پر بھی پابندی لگائی جاسکتی ہے۔
انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ایجوکیشن کے مطابق، امریکہ نے 2023-2024 تعلیمی سال کے دوران ریکارڈ 1.1 ملین بین الاقوامی طلباء کی میزبانی کی۔
اپنی دوسری صدارتی مدت سے پہلے، ٹرمپ نے امیگریشن کے سخت قوانین نافذ کرنے کا وعدہ کیا ہے اور وہ 7 اکتوبر کی طرح کے قتل عام کے خوف سے غزہ، شام، صومالیہ، یمن اور لیبیا جیسے مقامات پر سفری پابندی کے خواہاں ہیں۔
صدرٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ "امریکا میں آنے والے تمام تارکین وطن کی مضبوط نظریاتی اسکریننگ" کو نافذ کریں گے اور وعدہ کیا ہے کہ امریکہ "خطرناک پاگلوں، نفرت کرنے والوں، متعصبوں کو امریکی رہائش حاصل کرنے سے روک دے گا ۔