(ویب ڈیسک ) سابق وفاقی وزیر فواد چودھری کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ سے بات ہوگی، بانی پی ٹی آئی کو پتہ ہے کہ حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں،اس وقت سیاسی گرینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔
فواد چودھری نے انسداد دہشتگردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہی وقت میں فیصل آباد ملتان اور راولپنڈی میں ہمارے موجودگی ظاہر کی گئی، اے ٹی سی کے ججز کی کنپٹی سے پستول ہٹایا جائے، اس وقت عدلیہ خوفزدہ ہے، آزادانہ فیصلے نہیں کر پا رہی۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا کو عدالتی کارروائی دیکھنے کی اجازت نہیں دی جاتی،پاکستان میں عملی طور پر عدلیہ کو ختم کیا جا رہا ہے۔
فواد چودھری نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی دشمنی میں سب ادارے ختم کیے جا رہے ہیں، پاکستان عدم استحکام کی کیفیت میں ہے، ہر ادارہ برے حالات کا شکار ہے، پاکستان کو واپس ٹریک پر لانے کےلیے بانی پی ٹی آئی سے بات چیت کی جائے، بانی پی ٹی آئی بات چیت کے ذریعے درجہ حرارت نیچے لانا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے بیلا روس کے صدر کو ساتویں دفعہ صدر بننے پر مبارکباد دی،مریم نواز سے کہتا ہوں کہ ٹک ٹاک پر حکومت نہیں ہوتی، لوگوں کو جیلوں میں ڈال کر اور دیوار سے لگا کر حکومت نہیں ہوتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت ہی پاکستان جیسے ملک کو چلا سکتی ہے، الیکشن کمیشن پاکستان کے عوام کا اور آئین کا احترام کرے، سپریم کورٹ کے ججز کے فل کورٹ کے فیصلے پر فوری عملدرآمد کیا جانا چاہیئے، مذاکرات روکے نہیں گئے، بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ سے بات ہوگی، بانی پی ٹی آئی کو پتہ ہے کہ حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں،اس وقت سیاسی گرینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔
خیال رہے کہ انسداد دہشتگری عدالت نے فواد چوہدری کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دیے ہیں ۔ فواد چوہدری نے فرد جرمانہ عائد کروانے سے انکار کر دیا۔