یونان کشتی حادثہ:مدعی بیان سے مکر گئے،عدالت کا کارروائی کا عندیہ

یونان کشتی حادثہ:مدعی بیان سے مکر گئے،عدالت کا کارروائی کا عندیہ
کیپشن: یونان کشتی حادثہ:مدعی بیان سے مکر گئے،عدالت کا کارروائی کا عندیہ

ویب ڈیسک: یونان کشتی حادثہ کے مرکزی ملزم کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران مدعی مقدمہ اپنے بیان سے مکرگئے۔ جس پر عدالت نے جھوٹی درخواست دینے پر مدعی مقدمہ کیخلاف کارروائی کا عندیہ دیدیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں یونان کشتی حادثے کے مرکزی ملزم ثاقب ججا کی عبوری ضمانت پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست پر سماعت کی ۔

مدعی مقدمہ کے وکیل نے اپنے دلائل میں بتایا کہ مدعیوں نے بیان دیا ہے کہ ثاقب ججا ہمارا ملزم نہیں ہے ۔اس پر وفاقی حکومت کے وکیل رفاقت ڈوگر نےاپنے دلائل میں کہا کہ ان مدعیوں کی درخواست پر ہی ایف آئی اے نے کارروائی کی۔اب یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ہمارا ملزم نہیں ہے ۔ 

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ آپ ایک ظالم کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انسانی زندگی کی کوئی قیمت ہے یا نہیں؟میڈیا شور مچاتا ہے کہ ادارے کام نہیں کرتے۔ 

چیف جسٹس نے مدعی سے استفسار کیا کہ آپ نے خود درخواست دی اب کہہ رہے ہیں کہ یہ ہمارا ملزم نہیں ہے۔

اس پر مدعی جمیل نے بیان دیا کہ میں قرآن پر حلف دیتا ہوں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قرآن بہت بڑا ہے ہم اسکا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ 

چیف جسٹس نے ایف آئی اے سے استفسار کیا کہ کیا انکا بچہ اس حادثے میں بچ گیا تھا؟ وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت کے روبرو بتایا کہ جی تین مدعیوں کے بچے یونان حادثے میں بچ گئے تھے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ خوش قسمت ہیں کہ آپکا بچہ بچ گیا تھا۔ظالم کو بچانے کی کوشش مت کریں۔جو کہتے ہیں یہ سادہ لوگ ہیں ، یہ سادہ لوگ نہیں ہیں۔آپ لوگ عدالت میں سچ نہیں بول رہے۔یہ ملک ایسے ٹھیک نہیں ہوگا آگے آنا پڑے گا۔ 

عدالت نے تمام مدعیوں کو کل بارہ بجے سپیشل سینٹرل کورٹ پیش ہونے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ تمام مدعیوں کے بیانات کی تصدیق کریں۔ان کے انگوٹھوں کے نشانات کا فرانزک کرائیں۔ 

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر ثابت ہوگیا کہ مدعیوں نے درخواست دی تھی تو پھر جھوٹا بیان دینے پر انکے خلاف کارروائی کریں گے۔ 

عدالت نے ملزم ثاقب ججا کی عبوری ضمانت میں 12 فروری  تک توسیع کردی۔

Watch Live Public News