ویب ڈیسک: ایران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں کچھ معاملات پر لچک دکھانے کو تیار ہے، تاہم یورینیم کی افزودگی اس کے لیے ایک ناقابلِ مفاہمت معاملہ ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان، اسماعیل بقائی نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس ایرانی مؤقف کو سمجھ چکا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا:"اگر مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام عسکری نوعیت اختیار نہ کرے، تو یہ ہم بہت آسانی سے ممکن بنا سکتے ہیں۔"
جب ان سے پوچھا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کیسے ممکن ہو سکتی ہے، تو انہوں نے جواب دیا:"بہت سے طریقے ہیں"لیکن انہوں نے تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے پرامن جوہری توانائی کے حق کو تسلیم کیے بغیر کوئی بھی معاہدہ ممکن نہیں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ"اگر مقصد ایرانی قوم کو پرامن جوہری توانائی کے حق سے محروم کرنا ہے، تو یہ رویہ مذاکراتی عمل کے لیے سنگین چیلنج بن جائے گا۔"
مذاکرات میں پیشرفت، لیکن خدشات برقرار
جمعے کو روم میں ہونے والے پانچویں دور کے مذاکرات میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے، جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز امید کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ" ایران کے ساتھ گزشتہ روز اور آج بہت اچھے مذاکرات ہوئے، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، لیکن میرے خیال میں اچھی خبریں آ سکتی ہیں۔"
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کو اب تک کا "سب سے پیشہ ورانہ دور" قرار دیا، مگر ساتھ ہی کہا کہ اہم مسائل "اتنے پیچیدہ ہیں کہ دو یا تین ملاقاتوں میں حل نہیں ہو سکتے"۔
اگرچہ امریکہ کا مؤقف رہا ہے کہ ایران تمام یورینیم افزودگی بند کرے، لیکن بقائی کا کہنا ہے کہ امریکہ کا رویہ اب قدرے نرم نظر آ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ ہم اب تک مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں، اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکہ کو اندازہ ہو چکا ہے کہ ایران کسی بھی صورت اپنے پرامن جوہری حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔"
دوسری طرف، اقوامِ متحدہ کے جوہری ادارے IAEA کے سربراہ رافائیل گروسی نے مارچ میں خبردار کیا تھا کہ ایران کا افزودہ یورینیم کا ذخیرہ تین ماہ میں 50 فیصد بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ" ایران واحد غیر جوہری ریاست ہے جو اس سطح کی افزودگی کر رہا ہے، جو باعث تشویش ہے۔"
اسرائیلی حملے کا خدشہ اور ایرانی عزم
امریکی انٹیلی جنس کے مطابق، اسرائیل ایران کے جوہری تنصیبات پر حملے کی تیاری کر رہا ہے، باوجود اس کے کہ امریکہ تہران کے ساتھ سفارتی معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ اس تناظر میں بقائی نے کہا کہ ایران کسی بھی قسم کے دباؤ کے سامنے جھکنے والا نہیں۔
انہوں نے کہاکہ"جب بھی ہمیں دھمکیاں دی جاتی ہیں، ایرانی قوم ایک آواز میں جواب دیتی ہے۔ ہم اپنی قومی سلامتی کے دفاع کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔"
امید کی کرن
اگرچہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے حالیہ دنوں میں کسی معاہدے کے امکان کو مسترد کیا اور امریکی مذاکرات کاروں پر تنقید کی، لیکن ترجمان بقائی نے ایک "ون ون سچوئیشن" کی امید ظاہر کی۔
"اگر واقعی ارادہ ہو، تو راستے موجود ہیں۔ اور صرف ایک نہیں، بہت سے راستے موجود ہیں۔"