مودی سرکار کے شرمناک ہتھکنڈوں سے سکھ یاتریوں کو پریشانی، کرتارپور صاحب زائرین کی کمی

مودی سرکار کے شرمناک ہتھکنڈوں سے سکھ یاتریوں کو پریشانی، کرتارپور صاحب زائرین کی کمی

(ویب ڈیسک ) پاک بھارت سیز فائر کے باوجود مودی سرکاری کی جانب سے کرتارپور راہداری کو نہیں کھولا گیا۔جس سے بھارتی سکھ یاتری مذہبی رسومات کی ادائیگی  سے قاصر ہیں ۔

گردوارہ دربار صاحب کرتارپور صرف ایک مقدس مقام ہی نہیں بلکہ ایک مقدس پیغام بھی ہے جو ہمیں یہ بتاتاہے کہ انسانیت سرحدوں سے بالاتر ہے، لیکن بھارتی سکھ یاتری تاحال سفری پابندیوں کا شکار ہیں ، پاک بھارت سیز فائر کے باوجود بھی بھارتی سرکاری کی جانب سے کرتارپور راہداری کو نہیں کھولا گیا۔

گوردوارہ دربارصاحب کرتارپور سکھ مت کے ماننے والوں کا دوسرامقدس ترین مقام ہے جو لاہور سے تقریباً 120 کلومیٹر اورپاک بھارت سرحد سے صرف 4کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔

گوردوارہ دریائے راوی کے کنارےچھوٹے سے گاؤں کوٹھے پنڈ میں آبادہے، یہ گاؤں ضلع نارووال کی تحصیل شکر گڑھ میں آتاہے۔

گوردوارہ دربار صاحب کی تاریخی اہمیت یہ ہےکہ سکھ مت کے بانی باباگورونانک دیو جی نےاپنی عمر کے آخری 18سال گاؤں کوٹھے پنڈ میں گزارےاور 22 ستمبر 1539ء کو یہیں وفات پائی، یہاں ایک جانب ان کی سمادھی اور دوسری جانب قبربنائی گئی ہے۔

Watch Live Public News