(ویب ڈیسک ) تاجک وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین سے دہشتگرد گروہوں کی کارروائیاں قابلِ تشویش ہیں۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردوں نے تاجکستان پر ڈرون حملہ کیا ۔حملہ ختلون ریجن میں “استقلال” بارڈر پوسٹ کے قریب کیا گیا۔
ڈرون سے گرینیڈ اور فائرنگ کے ذریعے حملہ کیا گیا۔ حملے میں ایل ایل سی شاہین ایس ایم کے 3 چینی ملازمین ہلاک ہوگئے۔
تاجک وزارتِ خارجہ نے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ تاجکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی زمین سے جرائم پیشہ گروپ سرگرم ہیں۔
تاجکستان نے بارڈر سیکیورٹی کیلئے افغانستان سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کردیا۔بیان میں کہا کہ افغان سرزمین سے دہشتگرد گروہوں کی کارروائیاں قابلِ تشویش ہیں۔
حملے کےبعد تاجک افغان سرحدی علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی۔ تاجکستان کے افغانستان میں طالبان کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں اور حالیہ مہینوں میں کئی سرحدی جھڑپیں ہوئیں۔
چینی وزارت خارجہ کی جانب سے چینی مزدوروں پرافغان ڈرون حملے کی تصدیق کےبعد شدیدمذمت کی گئی ہے۔
چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ حملہ، آتشیں اسلحہ اور دستی بموں سے لدے ڈرون سے کیا گیا، جس میں چین کے تین شہری مارے گئے۔
تاجکستان اور افغانستان کی سرحدی پہاڑی علاقوں پر عسکریت پسندگروہ سرگرم ہیں دونوں ممالک کےدرمیان یہ سرحد ی علاقہ 840میل تک پھیلاہواہے افغان جرائم پیشہ گروہ سرحدی علاقوں میں حالات کو غیر مستحکم کرنے کے لیے کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔"
تاجک صدر امام علی رحمان، جو 1992 سے اقتدار میں ہیں، طالبان پر کھلے عام تنقید کرتے ہیں۔
صدر امام علی رحمان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان ا فغانستان میں مقیم تاجک نسل کے حقوق کا احترام کریں جو اس وقت افغانستان کی آبادی کاتین چوتھائی حصہ ہے۔
خیال رہے کہ تاجکستان میں اس وقت متعدد چینی کمپنیاں کان کنی اور قدرتی وسائل کےشعبوں میں کام کررہی ہیں۔