(ویب ڈیسک ) برازیل نے دنیا کی پہلی سنگل ڈوز ڈینگی ویکسین کی منظوری دیدی ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق برازیلی حکام نے گزشتہ روز دنیا کی پہلی سنگل ڈوز ڈینگی ویکسین کی منظوری دے دی، جسے انہوں نے "تاریخی" کامیابی قرار دیا ہے، کیونکہ ڈینگی کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
ڈینگی کی علامات میں شدید فلو جیسی کیفیت، تھکاوٹ اور جسم میں درد شامل ہیں۔جو 2024 میں ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا، اور محققین اس کے پھیلاؤ کا تعلق موسمیاتی تبدیلی سے جوڑتے ہیں۔
برازیل کی صحت کی ریگولیٹری ایجنسی انوِیزا (ANVISA) نے بوٹنٹن-ڈی وی (Butantan-DV) نامی ویکسین کے استعمال کی منظوری دے دی ہے، جسے ساؤ پاؤلو کے بوٹنٹن انسٹی ٹیوٹ نے تیار کیا ہے۔ یہ ویکسین 12 سے 59 سال کی عمر کے افراد کیلئے ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ فی الحال، دنیا بھر میں دستیاب واحد ڈینگی ویکسین TAK-003 ہے، جس کی دو خوراکیں تین ماہ کے وقفے سے دی جاتی ہیں۔
بوٹنٹن انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ایسپر کیلاس نے ساؤ پاؤلو میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ
"یہ برازیل میں سائنس اور صحت کے لیے ایک تاریخی کامیابی ہے۔"
انہوں نے مزید کہا، "ایک ایسی بیماری جو ہمیں دہائیوں سے پریشان کر رہی تھی، اب اس کے خلاف ہمارے پاس ایک انتہائی طاقتور ہتھیار موجود ہے۔"
نئی ویکسین نے کلینیکل ٹرائلز کے دوران شدید ڈینگی کے خلاف 91.6 فیصد مؤثریت ظاہر کی، جن میں 16 ہزار سے زائد رضاکاروں نے حصہ لیا۔
ڈینگی کی تکلیف دہ علامات کی وجہ سے اسے "ہڈی توڑ بخار" بھی کہا جاتا ہے۔
یہ بیماری ایڈیز (Aedes) مچھروں کے ذریعے پھیلتی ہے، جو اپنی روایتی حدود سے آگے بڑھتے ہوئے اب یورپ اور امریکہ کے ان حصوں تک پہنچ چکے ہیں جہاں پہلے یہ عام نہیں تھے۔
عالمی ادارۂ صحت نے رپورٹ کیا کہ 2024 میں دنیا بھر میں ڈینگی کے 1 کروڑ 46 لاکھ سے زائد کیسز اور تقریباً 12 ہزار ہلاکتیں ہوئیں،جو اب تک کا سب سے زیادہ ریکارڈ ہے۔ان اموات میں سے نصف برازیل میں ہوئیں۔
امریکہ کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے 2024 میں ایک تحقیق شائع کی جس میں اندازہ لگایا گیا کہ عالمی حدت (global warming) اس سال ڈینگی کے 19 فیصد کیسز کی ذمہ دار تھی۔
برازیل کے وزیرِ صحت الیگزینڈر پادیلہ نے کہا کہ برازیل نے چین کی کمپنی وو شی بائیولوجکس (WuXi Biologics) کے ساتھ معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت 2026 کی دوسری ششماہی میں تقریباً 3 کروڑ خوراکیں فراہم کی جائیں گی۔