مودی سرکار کی زبان بولنے پر ششی تھرور کو کانگریس رہنما نے نانی یاد دلادی

مودی سرکار کی زبان بولنے پر ششی تھرور کو کانگریس رہنما نے نانی یاد دلادی
کیپشن: مودی سرکار کی زبان بولنے پر ششی تھور کو کانگریس رہنما نے نانی یاد کروادی

ویب ڈیسک: کانگریس کے رہنما اودیت راج نے پیر کے روز ششی تھرور پر پہلگام حملے میں مودی سرکار کی زبان بولنے پر تنقید کی ہے۔ اودیت راج نے تھرور کی پارٹی کے ساتھ وفاداری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا وہ کانگریس کے لئے بات کر رہے ہیں یا بی جے پی کے ساتھ اپنے تعلقات بڑھا رہے ہیں؟

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اودیت راج نے کہا کہ "میں ششی تھرور سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ کانگریس پارٹی میں ہیں یا بی جے پی میں؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وہ(ششی تھرور) بی جے پی کا 'سپرمین' بننے کی کوشش کر رہے ہیں؟" 

یہ بیان تھرورکیجانب سے دیے گئے بیان کے ایک دن بعد آیا، جب انہوں نے کہا تھا کہ پہلگام حملہ ممکنہ طور پر انٹیلی جنس کی ناکامی کی وجہ سے ہوا اور اس کا موازنہ 7 اکتوبر کو اسرائیل پر ہونے والے حملے سے کیا۔ تاہم، تھرور نے کہا کہ لوگوں کو ابھی حکومت کی ناکامیوں پر توجہ نہیں دینی چاہیے۔

ششی تھرور نے نیوز ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ "واضح طور پر، انٹیلی جنس میں کوئی بھی 'فول پروف' نظام نہیں ہوتا۔ کچھ ناکامی ضرور ہوئی ہے... لیکن ہم نے اسرائیل کے 7 اکتوبر کے حملے کو دیکھا ہے جس کے بعد وہاں کی بہترین انٹیلی جنس خدمات بھی حیران کن طور پر متاثر ہو گئیں۔ ہمیں بھی یہی رویہ اختیار کرنا چاہیے، ہم بھی اس بحران کا سامنا کریں اور پھر حکومت سے جواب طلب کریں۔"

اس کے جواب میں اودیت راج نے اپنے ایک طویل پوسٹ میں ششی تھرور کو بی جے پی کا "وکیل" بننے پر تنقید کرتے ہوئے سوال کیا کہ آخرکار وہ کب سے بی جے پی کے دفاع میں بات کرنے لگے ہیں۔

اودیت راج نے لکھا کہ "ششی تھرور نے کہا کہ کسی بھی ملک کی انٹیلی جنس 100% فول پروف نہیں ہو سکتی؟ 26/11 ممبئی حملوں کے بعد مودی جی نے کہا تھا کہ یہ مرکزی حکومت کی ناکامی تھی۔ بی ایس ایف اور سی آر پی ایف مرکزی حکومت کے تحت ہیں، تو دہشت گرد کیسے آ گئے؟ اگر بی جے پی نے خود سیکیورٹی کی ناکامی کا اعتراف کیا تھا تو ششی تھرور جی آپ ان کے وکیل کیسے بن گئے؟" 

پہلگام دہشت گردی حملہ

پہلگام میں 22 اپریل کو ہونے والے حملے میں 26 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔ یہ واقعہ بیساران وادی میں پیش آیا جو "منی سوئٹزرلینڈ" کے نام سے مشہور ہے اور سیاحوں کی پسندیدہ جگہ ہے۔

بھارت نے اس حملے کے بعد سخت کارروائی کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ انڈس واٹر معاہدہ معطل کر دیا ہے اور تمام پاکستانی شہریوں کو بھارت سے واپس بھیج دیا ہے۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اس حملے میں ملوث تمام دہشت گردوں اور ان کے مددگاروں کو پکڑ کر سزا دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

Watch Live Public News