ویب ڈیسک: فتنہ الہند اور خارجیوں کیخلاف ملک کے جید علماء کرام کا واضح اور ٹھوس مؤقف سامنے آگیا۔
علماء کرام نے اپنے بیان میں کہا کہ اسلامی اصولوں پر قائم ریاست پاکستان کے قوانین قرآن وسنت کے تابع ہیں۔کسی بھی خوارج کا پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھاناناجائزہے۔کسی بھی خوارج کا جہادکافتویٰ دیناناجائزہے۔
علامہ طاہرالقادری نے کہا کہ جو ریاست کیخلاف ہتھیار اٹھائے گا وہ دہشتگردی ہے۔ مولاناطارق مسعود کا کہنا تھا کہ جہاد کے نام پر خارجی تحریک اسلام کے منافی ہے ۔ملک بچانے کیلئے علمائے کرام پاک فوج کے ساتھ ہیں۔ ہم خارجیوں کی تحریک کو نہیں مانتے۔
مولانا عبد الخبیر آزاد کے مطابق اسلام میں انتہا پسندی اور دہشت گردی حرام ہے ۔اسلام میں خود کش حملوں کو حرام قرار دیا دیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ گمراہ اور سفاک افراد کی اسلام میں گنجائش نہیں۔ دہشتگرد قاتل اور مجرم ہیں۔ قبلہ ایاز کے مطابق افغان قیادت نے بھی پاکستان کیخلاف جہاد کو ناجائز قرار دیا ہے۔
علماء کرام کا مؤقف ہے کہ جہادکاحکم صرف ریاست ہی صادر کرسکتی ہے۔جب ریاست اسلامی اصولوں پر قائم ہواس کے خلاف دہشتگردی کو کیسے جائزکہاجاسکتاہے؟ حضورﷺنے واضح حکم فرمایاعورتوں اوربچوں کو قتل نہ کرو۔