(ویب ڈیسک) 90 لاکھ ووٹروں ختم کرنا دراصل بیوروکریسی کے پردے میں چھپا ایک منظم وار ہے، جس کا مقصد مغربی بنگال میں مسلم کمیونٹی کی سیاسی موجودگی کو مٹانا ہے۔
جائز شہریوں کو درانداز قرار دے کر، بھارتی ریاست نے انتخابی فہرست کو آبادیاتی جنگ اور فرقہ وارانہ اخراج کے ہتھیار میں بدل دیا ہے۔
2.4 لاکھ مرکزی سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی سیکیورٹی اقدام نہیں بلکہ ایک فوجی قبضہ ہے، جس کا مقصد عوام کو پولنگ بوتھ تک پہنچنے سے پہلے ہی خوفزدہ کرنا ہے۔
"آپریشن آل آؤٹ" جیسے جارحانہ اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ مودی حکومت جمہوری عمل کو ایک میدانِ جنگ سمجھتی ہے جہاں اقلیت کو دشمن کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ دو مرحلوں پر مشتمل انتخابات، جو لاکھوں فوجیوں کے سائے میں کرائے جا رہے ہیں، عوامی رائے کا آزاد اظہار نہیں بلکہ ایک زبردستی مسلط کیا گیا مینڈیٹ ہے۔
الیکشن کمیشن کی "صفائی مہم" ایک کھلا ڈھونگ ہے، جو اپوزیشن کو دبانے اور نظریاتی غلبہ قائم کرنے کی مربوط کوشش کا حصہ ہے۔ سرحدی اضلاع میں ووٹروں کی تطہیر اس خوفزدہ ریاست کی نشاندہی کرتی ہے جو اپنی ہی اقلیتی آبادی کو سیکیورٹی خطرہ سمجھتی ہے۔
ایک "انکاؤنٹر اسپیشلسٹ" افسر کی جانب سے امیدوار کے خاندان کو دھمکیاں دینا ظاہر کرتا ہے کہ ریاست نے قانون کی حکمرانی کو بندوق کی حکمرانی سے بدل دیا ہے۔
آئی پی ایس افسر اجے پال شرما، جو پولیس مبصر اور "انکاؤنٹر اسپیشلسٹ" ہیں، اس وقت شدید تنازعے کا باعث بنے جب ایک وائرل ویڈیو میں انہیں ٹی ایم سی امیدوار جہانگیر خان کے خاندان کو مبینہ ووٹر دھاندلی روکنے کی وارننگ دیتے ہوئے دیکھا گیا، دھمکی میں کہا گیا کہ بعد میں "رونا یا پچھتانا نہ پڑے۔"
وردی میں ملبوس اہلکاروں کی غنڈہ گردی اس بات کا ثبوت ہے کہ وفاقی ڈھانچے کو کمزور کر کے ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔