ویب ڈیسک: عیدالاضحیٰ 2026 سے قبل مغربی بنگال میں گائے کی تجارت، بی جے پی حکومت کی سخت پالیسیوں، اور گاؤ رکھشا کے نام پر بڑھتی کشیدگی نے مویشی معیشت کو شدید بحران سے دوچار کر دیا۔
27–28 مئی 2026 کو عیدالاضحیٰ قریب آنے کے ساتھ ہی West Bengal میں مویشیوں کی خرید و فروخت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ بی جے پی حکومت، جس کی قیادت Suvendu Adhikari کر رہے تھے، نے 1950 کے ویسٹ بنگال اینیمل سلاٹر کنٹرول ایکٹ پر سختی سے عملدرآمد کیا۔ اس قانون کے تحت 14 سال سے زائد عمر کے جانوروں کے لیے فٹنس سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا گیا جبکہ گائے کے ذبح پر مزید پابندیاں عائد کی گئیں۔ Vishwa Hindu Parishad اور Bajrang Dal جیسے ہندو تنظیموں نے گائے کی قربانی کے خلاف احتجاج اور مہمات چلا کر ماحول کو مزید کشیدہ بنا دیا۔
ناقدین کے مطابق بی جے پی حکومت اور گاؤ رکھشا کے نام پر سرگرم گروہوں کے دباؤ نے نہ صرف مسلمانوں بلکہ غریب ہندو تاجروں اور کسانوں کو بھی شدید معاشی نقصان پہنچایا۔
اس صورتحال کے جواب میں مسلم رہنماؤں، جن میں Maulana Shafiq Qasmi بھی شامل تھے، نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ گائے خریدنے کے بجائے بکرے یا بھیڑ کی قربانی کریں تاکہ قانونی تقاضوں اور سماجی جذبات کا احترام کیا جا سکے۔ West Bengal کے مختلف اضلاع، خصوصاً South 24 Parganas، Nadia، اور Murshidabad کی مویشی منڈیوں میں خریداروں کی تعداد میں 50 سے 70 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔ ہندو گھوش برادری کے تاجر، جو ہر سال عید کے موقع پر زیادہ منافع کے لیے گائیں پالتے تھے، شدید مالی نقصان کا شکار ہوئے۔
عید کے دوران ان گایوں کی قیمت عام دنوں کے ₹10,000–25,000 کے مقابلے میں ₹50,000 سے 1 لاکھ تک پہنچ جاتی تھی، جس کی وجہ سے یہ ان تاجروں کی سالانہ آمدنی کا اہم ذریعہ تھا۔
کئی خاندان تقریباً ₹9 لاکھ کے قرض، بڑھتی ہوئی خوراکی لاگت، اور جانوروں کی دیکھ بھال کے اخراجات کے باعث شدید معاشی دباؤ میں آ گئے۔ یہ کشیدگی بھارت میں گائے کے نام پر ہونے والے تشدد، ہجوم کے حملوں، اور نگرانی پسند کارروائیوں کے وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔ 2015 سے 2018 کے درمیان کم از کم 44 افراد، جن میں 36 مسلمان شامل تھے، بھارت کی 12 ریاستوں میں گاؤ رکھشا کے نام پر ہونے والے 100 سے زائد حملوں میں ہلاک ہوئے جبکہ تقریباً 280 افراد زخمی ہوئے۔
رائٹرز کی ایک تحقیق کے مطابق 2010 سے وسط 2017 تک ایسے 63 واقعات میں 28 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 24 مسلمان تھے، جبکہ 124 افراد زخمی ہوئے، اور ان میں سے 97 فیصد واقعات 2014 کے بعد پیش آئے۔ Reuters کی رپورٹوں اور Wikipedia کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2024 تک گاؤ رکھشا سے متعلق 83 واقعات میں 43 اموات اور 157 زخمیوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ان واقعات نے دیہی معیشت کو شدید متاثر کیا، مختلف برادریوں کے تعلقات میں تناؤ پیدا کیا، اور کسانوں کے احتجاج کو جنم دیا۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ بھارت کی مویشی معیشت میں ثقافتی تحفظ، مذہبی رسومات، سیاسی دباؤ، معاشی حقائق، اور تاریخی تشدد کے درمیان تنازع مسلسل شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
کیپشن: بی جے پی حکومت کی سخت پالیسیوں کے باعث عیدالاضحیٰ سے قبل مغربی بنگال میں مویشی معیشت شدید بحران سے دوچار