ویب ڈیسک: ایل ڈی آئی ٹیلی کام کمپنیوں سے 80 ارب روپے کے واجبات کی وصولی کا معاملہ ، پی ٹی اے نے نادہندہ پانچ ایل ڈی آئی کمپنیوں کے لائسنس معطل کردیئے۔
پی ٹی اے نے نادہندہ ایل ڈی آئی کمپنیوں کو آپریشنز بند کرنے کا حکم دے دیا، پی ٹی اے نے ایل ڈی آئی کمپنیوں نے ایک ماہ میں بقایا جات ادا کرنے کی ہدایت کی تھی۔
ورلڈ کال، وتین ٹیلی کام، وائس کمنیوکیشن، ٹیلی کارڈ، سرکل نیٹ شامل ہیں، پی ٹی اے حکام کا کہنا تھا کہ ایل ڈی آئی کمپنیاں اتھارٹی کے احکامات پر عملدرآمد میں ناکام رہیں۔
پی ٹی اے نے پانچ نادہندہ ایل ڈی آئی کمپنیوں کے حوالے سے الگ الگ حکمنامہ جاری کیا، سیلولر موبائل آپریٹرز ان کمپنیوں کو فراہم کی جانیوالی ٹیلی کمنیوکیشن سہولیات فوری بند کردیں۔
کلاس ویلیو ایڈڈ سروس لائسنس ہولڈرز بھی ان کمپنیوں کو سہولیات فوری بند کردیں، پی ٹی اے نے وتین ٹیلی کام کو 6.25 ارب، سرکل نیٹ کو 5.9 ارب روپے ادا کرنے کی ہدایت کی تھی۔
ملٹی نیٹ کو 1.41 ارب، ریڈٹون کو سب سے زیادہ 14.31 ارب روپے ادا کرنے کا حکم دیا تھا، ورلڈ کال سے 5.69 ارب، ٹیلی کارڈ کو 4.07 ارب روپے جمع کرانے کی ہدایت کی تھی ۔
پی ٹی اے نے نادہندہ ایل ڈی آئی کمپنیوں کی علیحدہ علیحدہ سماعت کی، بقایا جات کی ادائیگی اور لائسنسوں کی تجدید سے متعلق بریک تھرو نہ ہوسکا ، کمپنیوں کے ذمے 24 ارب کی بنیادی رقم اور 56 ارب کے لیٹ پیمنٹ سرچارج واجب الاد ہیں۔
کل 13 ایل ڈی آئی کمپنیوں میں سے 4 کمپنیوں کے لائسنسوں کی تجدید 2024 میں کی گئی ، سات ایل ڈی آئی کمپنیوں کے لائسنس کی معیاد 2024 میں ختم ہوگئی ، 2 ایل ڈی آئی کمپنوں کے لائسنس کی معیاد 2025 ، 2026 میں ختم ہونی ہے۔
ایل ڈی آئی کمپنیوں کے ذمے یونیورسل سروس فنڈ کے اے پی سی چارجز گزشتہ کئی سالوں سے واجب الادا ہیں، پی ٹی اے نے وزارت آئی ٹی کے خط اور عدالت کے فیصلے کی روشنی میں کمپنیوں کی سماعت کی۔